رسائی کے لنکس

پاکستان: بدعنوانی کی سطح میں معمولی کمی


فائل فوٹو

غیر جانبدار مبصر کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک کو طرز حکمرانی بہتر بناتے ہوئے واضح تبدیلی کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم "ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل" کی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی شفافیت میں حالیہ برسوں میں بتدریج بہتری ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال یہ دنیا کے 176 ممالک میں سے ایک سو سولہویں نمبر پر رہا۔

تاہم یہ صورتحال ملک میں بدعنوانی کی شرح میں قابل ذکر بہتری تصور نہیں کی جا سکتی اور غیر جانبدار مبصر کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک کو طرز حکمرانی بہتر بناتے ہوئے واضح تبدیلی کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔

بدھ کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوانی کے تاثر پر مبنی عالمی فہرست جاری کی جس میں 176 ممالک کی صفر سے 100 پوائنٹس کی بنیاد پر درجہ بندی کو ظاہر کیا گیا۔

پاکستان 32 پوائنٹس کے ساتھ 116 نمبر پر ہے جب کہ اس کے پڑوسی ممالک چین اور بھارت 40 پوائنٹس کے ساتھ 79 نمبر پر ہیں۔ افغانستان 15 پوائنٹس کے ساتھ 169 نمبر پر ہے۔

فہرست میں صفر یا کم ترین پوائنٹس حاصل کرنے والے ملکوں کو بدعنوان جب کہ زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والوں کو شفاف تصور کیا جاتا ہے۔

فہرست جاری کرتے ہوئے تنظیم نے دنیا کے مختلف ملکوں میں عدم مساوات اور سرکاری سطح پر بدعنوانی کے گٹھ جوڑ کا تذکرہ کیا۔ پاکستان سمیت کم آمدنی والے ممالک کے بارے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ ان ملکوں میں سرکاری اداروں کی کارکردگی اچھی اور قابل اعتماد نہیں اور یہاں لوگوں کو اکثر رشوت ستانی کی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔

تاہم پاکستان کی موجودہ حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بدعنوانی کے تاثر میں کمی کے باعث ظاہر کی گئی درجہ بندی حکومت کی مختلف پالیسیوں اور اداروں میں شفافیت کے لیے کیے گئے اقدام کا نتیجہ ہے۔

سابق مشیر خارجہ اور ماہر اقتصادیات سلمان شاہ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ اگر مجموعی طور پر بہتری کو دیکھا جائے تو یہ کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اس اعتبار سے اس کی پوزیشن بہت بہتر ہونی چاہیے لیکن ملک میں سرکاری ادارے ان کے بقول بدعنوانی پر قابو پانے میں خاصے مفلوج نظر آتے ہیں۔

"یعنی اگر آپ نے طرز حکمرانی میں بہتری لانی ہے تو وہ رات و رات آسکتی ہے۔ قانون کو سخت بنائیں، اپنے اداروں کو درست کریں، صحیح لوگ تعینات کریں، طریقہ کار کو بہتر کریں تو بہت بہتری آسکتی ہے۔ اور پاکستان نے اگر دنیا میں اپنا کوئی اقتصادی کردار ادا کرنا ہے تو پھر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل میں 116 نمبر پر آکر آپ اقتصادی پیش رفت نہیں کر سکتے۔"

رواں ماہ ہی پاکستان کی حکومت کی طرف سے ملک میں احتساب کے قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم متعارف کروائی گئی تھی جس کے تحت بدعنوانی کے کے ذریعے رقم حاصل کرنے والا شخص ہمیشہ کے لیے عوامی اور سرکاری عہدوں کے لیے نااہل ہو جائے گا۔

رپورٹ جاری کرتے ہوئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے اعلیٰ عہدیدار جوز اوگز کا بھی کہنا تھا کہ ممالک کو اپنے اپنے نظام میں زیادہ مفصل انداز میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اقتدار اور دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر توجہ دی جا سکے۔

اس فہرست میں ڈنمارک اور نیوزی لینڈ نوے پوائنٹس کے ساتھ شفاف ترین ممالک ہیں جب کہ فن لینڈ 89 اور سویڈن کے 88 پوائنٹس ہیں۔

شفاف ترین ممالک کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ان تمام ملکوں میں امور حکومت مخفی نہیں، صحافت اور نظام عدل آزاد ہیں۔

صومالیہ کو فہرست میں بدعنوان ترین ملک ظاہر کیا گیا ہے جس کے بعد جنوبی سوڈان، شمالی کوریا اور شام کا نمبر ہے۔

XS
SM
MD
LG