رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات ایسے ہیں کہ سب اکٹھے ہوں اور وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری اپنی جماعت کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اُن کی طرف سے یہ اعلان پشاور میں فوج کے زیر انتظام اسکول پر ملک کی تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملے کے ایک روز بعد کیا گیا۔

اس سے قبل بدھ کی صبح پشاور میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں عمران خان نے شرکت بھی کی تھی۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’’میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جو آج پاکستان کے حالات ہیں، ہمیں دھرنا ختم کرنا پڑے گا۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے حکومت فوری اقدامات کرے۔

’’آج حالات ایسے ہیں کہ ملک اکٹھا ہو اور ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ جلدی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور مسئلہ حل کریں تاکہ ملک آگے بڑھے‘‘۔

عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی سے متعلقہ تحقیقات اور احتساب نا کیا گیا تو اُن کی جماعت دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے عمران خان کی طرف سے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل بدھ کو پشاور میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ سیاسی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

’’میں نے انھیں (عمران خان) کو بھی دعوت دی ہے، یہ مجھے دعوت دیں گے میں اُن کے سامنے چلا جاؤں گا اور بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا کوئی حل نا ہو۔ وہ حل یقیناً ان کی تسلی کے مطابق ہونا چاہیئے اور ہماری بھی تسلی کے مطابق ہونا چاہیئے۔۔۔۔ ہم جمہوری عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ عمران خان کی جماعت کے ہمراہ اسلام آباد میں دو ماہ سے زائد وقت تک دھرنے میں شامل رہنے والی جماعت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نےاکتوبر کے آخری عشرے میں اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تحریک انصاف کا الزام ہے کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور اسی بنا پر 14 اگست سے اس جماعت نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

عمران خان نے 30 نومبر کو اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے ملک کے بڑے شہروں کو مرحلہ وار ایک ایک دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سلسلے میں تحریک انصاف لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں ایک ایک روز کے لیے احتجاج کر چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے وزیر اعظم نواز شریف جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ کو پہلے ہی ایک خط لکھ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG