رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم کی کامیابی کے لیے شدت پسندوں سے تعاون کی اپیل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو پولیو سے پاک نہ کیا جاسکا تو یہاں سے روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انسداد پولیو کی ٹیموں پر حملہ کرنے والے عناصر سے اپیل کی ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے وہ حکومت سے تعاون کریں اور اس میں کسی طرح کا خلل نا ڈالیں۔

رواں سال پاکستان میں رپورٹ ہونے والے 74 پولیو کیسز میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ہے جہاں سلامتی کے خدشات کے باعث انسداد پولیو کے رضا کاروں کی بچوں تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی اور دو لاکھ سے زائد بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہے۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پوری طرح سے اس موذی وائرس پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے لیکن انھیں رضا کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شدت پسندوں کا تعاون درکار ہے۔

’’طالبان اور جو بھی گروپ ان لوگوں پر حملے کر رہے ہیں ان سے اپیل کروں گا یہ کارروائی نہ کریں کیونکہ یہ حملے اسلام اور پاکستان کے منافی ہیں۔ ۔ ۔ اس طرح تو کوئی غریب بیچارا خیبرپختونخواہ سے روزی کمانے باہر نہیں جا سکے گا کوئی بھی پاکستانی پاسپورٹ پر باہر نہیں جا سکے گا۔‘‘

نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والے پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

گزشتہ دو برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہونے والے پولیو وائرس کا تعلق بھی پاکستان میں موجود وائرس سے بتایا جاتا ہے۔

رواں ماہ ہی بھارت نے اپنے ملک آنے کے خواہشمند پاکستانی مسافروں کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینا لازمی قرار دے دیا ہے جب کہ حج اور عمرہ کے لیے جانے والوں پر سعودی عرب نے بھی پولیو ویکسین کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر جان لیوا حملے ہو چکے ہیں جن میں ان کی حفاظت پر مامور کم ازکم چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

عمران خان نے اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق سے بھی ملاقات کی جن کے مدرسے نے حال ہی میں ایک فتوے میں کہا تھا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا غیر اسلامی فعل نہیں ہے۔ مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کے بااثر مذہبی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ رضا کاروں کے تحفظ سمیت انھیں درپیش تمام مسائل کو حل کریں گے کیونکہ یہ آنے والی نسل اور ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

’’پولیو سے بچاؤ کے رضا کاروں کی ہم ہر طرح مدد کریں گے معاشی طور پر بھی اور انھیں تحفظ بھی دیں گے کیونکہ یہ ہمارا مستقبل سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت میں شامل عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں پولیو سے بچاؤ کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے جب کہ پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ اس بارے میں امام کعبہ کا ریکارڈ شدہ پیغام حاصل کرکے ایسے علاقوں تک پہنچایا جائے جہاں لوگ مذہب کی بنیاد پر غلط تصورات کے نتیجے میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG