رسائی کے لنکس

عمران خان نے بغیر کسی سہارے کے تین سو میٹر تک چہل قدمی کی اور ڈاکٹروں نے ایکس رے رپوٹس کا جائزہ لینے کے بعد اُن کی صحت میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے منگل کو تقریباً دو ہفتوں بعد پہلی مرتبہ اسپتال میں چہل قدمی کی۔

وہ سات مئی کو لاہور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب سے قبل لفٹ کے ذریعے اسیٹج پر چڑھتے وقت گر کر زخمی ہو گئے تھے۔

منگل کو تحریک انصاف کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسپتال میں عمران خان کی کمر کو سپورٹ دینے کے لیے ایک خصوصی جیکٹ پہنانا پڑی، جس کے بعد اُنھوں نے بغیر کسی سہارے کے تین سو میٹر تک چہل قدمی کی۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد عمر نے وائس آف امریکہ کو عمران خان کی بحالی صحت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے رہنما اس پیش رفت پر خاصے خوش ہیں۔

’’اُن کی صحت بہت بہتر ہے، آج انھوں نے خود چہل قدمی بھی کی ہے، تکلیف بھی کم ہو گئی ہے پہلے سے۔ میری جو اُن سے بات ہوئی وہ کافی پر اعتماد لگ رہے تھے۔‘‘
اُمید یہ ہے کہ وہ اگلے تین چار دن کے اندر یا اُس سے بھی پہلے وہ اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے۔‘‘

تحریک انصاف کے بیان کے مطابق ڈاکٹروں نے عمران خان کی ایکس رے رپوٹس کا جائزہ لینے کے بعد اُن کی صحت میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اُدھر صدر آصف علی زرداری نے منگل کو ٹیلی فون پر عمران خان سے رابطہ کر کے اُن کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔


صدراتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے 11 مئی کے انتخابات میں عمران کی جماعت کو ملنے والے ووٹ خاص طور پر خیبر پختونخواہ میں اکثریت حاصل کرنے پر اُنھیں مبارکباد دی۔

الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق تحریک انصاف تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور قومی اسمبلی میں اسے 28 نشستیں ملیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں ملیں اور حکومت سازی کے لیے اُس نے آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی سے اتحاد کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG