رسائی کے لنکس

عمران خان نے کہا کہ وہ امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جتنے ڈرون حملے کیے جائیں گے اتنے ہی لوگ ان کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ڈرون حملوں کے خلاف ’’امن کارواں‘‘ اتوار کو جنوبی وزیرستان سے متصل نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں داخل ہونے سے رو دیا گیا۔

مقامی حکام کے مطابق احتجاجی ریلی کو سلامتی کے خدشات کےپیش نظر جنوبی وزیرستان جانے سے روکا گیا۔

جنوبی وزیرستان جانے کی اجازت نہ ملنے پر ریلی کے شرکاء واپس قریبی ٹانک شہر آ گئے جہاں شہر کے مرکز میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مارچ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ڈرون حملوں کا مسئلہ اجاگر کرنے کا بنیادی ہدف حاصل ہو گیا ہے۔

انھوں نے ریلی میں شریک امریکی شہریوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو ڈرون حملوں کے سنگین اثرات سے متنبہ کیا۔

’’ہم امریکہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ جتنے ڈرون حملے کریں گے اتنے ہی لوگ آپ سے نفرت کریں گے اور آپ کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ ریلی کے دوران کوئی نا خوش واقع پیش نہیں آیا۔

پشاور میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ان خبروں کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے پی ٹی آئی کی ریلی کو روکنے کی کوشش کی۔

’’ہم نے بڑے صبر و تحمل سے اور خطرہ مول لیتے ہوئے انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی۔‘‘

احتجاجی مارچ ہفتے کو اسلام آباد سے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا جہاں رات قیام کے بعد یہ کارواں اتوار کی صبح جنوبی وزیرستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے جنوبی وزیرستان جانے والی مرکزی شاہراہ کو مختلف مقامات پر کنٹیرز رکھ کر بند کر رکھا تھا۔ مگر مارچ کے شرکاء انہیں ہٹاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔

پارٹی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تحریک انصاف کے ہزاروں کارکن کے علاوہ اس کارواں میں کوڈ پنک نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد امریکی بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اتوار کی صبح جنوبی وزیرستان روانگی کے وقت شرکاء کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جس کی ایک بڑی وجہ وزیرستان سے آئے ہوئے قبائلیوں کی ریلی میں شرکت تھی۔

حکومت کی جانب سے ریلی کی وزیرستان روانگی کے وقت سلامتی کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ کالعدم تحریک طالبان نے بھی ایک بیان میں عمران خان کو مغربی اقدار کا ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگجو تنظیم کی طرف سے پی ٹی آئی ریلی کو تحفظ فراہم کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ 2004 سے شروع ہوا اور تب سے محتلف مواقعوں پر ان حملوں کے خلاف چھوٹے بڑے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ مگر کسی سیاسی جماعت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ڈرون حملوں سے متاثرہ علاقے کی جانب یہ پہلا کارواں ہے۔

امریکی حکام کے موقف ہے کہ ڈرون القاعدہ اور اس سے منسلک شدت پسند تنظیموں کے خلاف ایک موثر ہتھیار بن چکے ہیں اور ان کے بقول انہیں ایسی مہارت سے استعمال کہ کم سے کم عام شہریوں کو نقصان پہنچے۔

پاکستانی حکومت ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہے۔


تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG