رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ وکلاء برادری اس بات پر متفق ہے کہ ملک میں دستور سے منافی کسی بھی اقدام کی ہر ممکن مزاحمت کی جائے گی

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے حکومت مخالف احتجاج کرنے والی جماعتوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کو جمعرات کو عدالت میں پیش ہونے کا کہا ہے۔

یہ طلبی سپریم کورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کی گئی جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ان جماعتوں کو آئین و قانون سے ماورا مطالبات سے روکے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نےگزشتہ ہفتے لاہور سے اپنے حامیوں کے ہمراہ اسلام آباد تک مارچ کیا تھا اور ان کے ہزاروں کارکن پانچ روز تک وفاقی دارالحکومت کی دو اہم شاہراہوں پر دھرنے کے بعد منگل کو رات دیر گئے سے شاہراہ دستور پر پنڈال سجائے بیٹھے ہیں۔

دونوں جماعتوں کی طرف سے مختلف مطالبات کیے گئے ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ان میں مشترک ہے۔

عدالتوں کی طرف سے سیاسی معاملات کی شنوائی کو بعض حلقے دبے لفظوں میں نامناسب قرار دیتے ہیں لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا۔

"جب بھی آئین میں جو حقوق دیے گئے ہیں وہ غصب ہو رہے ہوں یا ان کے غصب ہونے کا خدشہ ہو تو عدالت عظمیٰ اس میں مداخلت کر کے ان کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔"

شاہراہ دستور اسلام آباد کے حساس ترین علاقے ریڈزون سے گزرتی ہے اور یہاں پارلیمان ایوان صدر و وزیراعظم کے علاوہ سپریم کورٹ، دیگر ریاستی اداروں کے دفاتر اور غیر ملکی سفارتخانے واقع ہیں۔

کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ یہاں دھرنے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں عدالتی کارروائی میں بھی خلل پڑا ہے۔

"بہت سارے سے کیسز ملتوی ہوگئے ججز کو کسی اور راستے سے لایا گیا بہت سے جج وقت پر نہیں پہنچ سکے، ہم خود بھی بس اسی طرح ہی پہنچے ہیں تو ملک کی سب سے بڑی عدالت کا کام بھی یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء برادری اس بات پر متفق ہے کہ ملک میں دستور سے منافی کسی بھی اقدام کی ہر ممکن مزاحمت کی جائے گی۔

"کوئی بھی مطالبہ جو ماورائے آئین ہو وہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور جس جمہوریت کا سب پھل کھا رہے ہیں اس میں ہم نے بھی جدوجہد کی ہے اور اب بھی اگر کوئی ایسا اقدام جو دستور کے منافی ہو تو پھر یہ بات یہاں نہیں رکے گی بلکہ پھر لاکھوں وکلا اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔"

ان کا کہنا تھا مختلف بار ایسوسی ایشنز کا اجلاس ہو رہے ہیں جس میں اس ضمن میں مشاورت کی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG