رسائی کے لنکس

سیلاب اور بارش کے باعث جشنِ آزادی کی گہما گہمی ماند

  • عمیر ریاض

سیلاب اور بارش کے باعث جشنِ آزادی کی گہما گہمی ماند

سیلاب اور بارش کے باعث جشنِ آزادی کی گہما گہمی ماند

ملک میں آنے والے بد ترین سیلاب کی تباہ کاریوں اور شہر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث اس بار کراچی جشنِ آزادی کی روایتی گہما گہمی سے محروم نظر آتا ہے۔

14 اگست کو منائے جانے والے جشنِ آزادی میں تین دن رہ جانے کے باوجود ماضی کے برعکس اس بار نہ شہر کے چوراہوں پر قومی پرچم اور جھنڈیوں سے سجے اسٹالز نظر آرہے ہیں، اور نہ سڑکوں پہ دوڑتی پھرتی گاڑیوں پر لہراتے قومی پرچموں ہی کی بھرمار ہے۔ نہ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے اور نہ ہی شہر کی گلیاں اور محلے سبز جھنٹیوں کی چادر اوڑھے دکھائی دیتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بھی اس بار ملکی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر جشنِ آزادی سادگی سے منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ اس بار سرکاری عمارتوں پر نہ چراغاں ہوا ہے اور نہ ہی کسی قسم بڑی سرگرمی متوقع ہے۔

جشنِ آزادی کی تیاریوں میں روایتی جوش و خروش کی عدم موجودگی کے اسباب جاننے کے لیے وائس آف امریکہ کی جانب سے شہر میں کیے جانے والے سروے میں عوام کی اکثریت نے اس قومی تہوار سے اپنی لاتعلقی کی ذمہ داری شہر میں گزشتہ پورے ہفتے جاری رہنے والی ٹارگٹ کلنگ اور جلائو گھیرائو کے واقعات پہ ڈالی، جن میں سو سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ شہر کی فضا ہفتہ بھر جاری رہنے والی کشت و خون کے اثرات سے تاحال باہر نہیں نکل پائی اور متاثرہ علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں۔

حالیہ فسادات سے متاثر ہونے والی ایسی ہی ایک آبادی گلستانِ جوہر میں ہماری ملاقات 31 سالہ وحید حسین سے ہوئی جنہوں نے علاقے کی ایک سڑک کے کنارے قومی پرچموں، جھنڈوں اور بیجز کا اسٹال لگا رکھا ہے۔ اسی قسم کے دیگر آدھے درجن سے زائد اسٹالز میں گھرے وحید حسین جہاں ایک جانب "بزنس میں شدید کمپیٹیشن" کا رونا روتے نظر آئے وہیں انہیں ہر وقت یہ دھڑکا بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی اس دکان کو کوئی "تیلی" نہ دکھا جائے۔

"جناب ڈر تو لگتا ہے کہ پھر کوئی ہنگامہ نہ ہوجائے۔ خداناخواستہ ایسا کچھ ہوگیا تو میں تو اپنا یہ سارا سامان سمیٹ کے کہیں بھاگ بھی نہیں سکتا۔ ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے۔ لیکن پھر بھی پیٹ پالنے کے لیے گھر سے نکلنا تو پڑتا ہے"۔

وحید کو صرف حالات کا ہی گلہ نہیں۔ وہ مہنگائی سے بھی شاکی نظر آئے۔

"میں تین سال سے اسی جگہ ہر 14 اگست سے پہلے اسٹال لگاتا ہوں۔ یقین مانیں اس بار مجھے اس جگہ کے لیے پچھلے سال کی بہ نسبت دگنی قیمت دینی پڑی ہے"۔ تاہم ہمارے اصرار کے باوجود وہ یہ بتانے سے کتراتے رہے کہ انہوں نے یہ قیمت ادا کس کو کی۔

وحید نے بتایا کہ اس بار ان کے اسٹال پر موجود آدھے سے زیادہ مال پچھلے سال کا بچا ہوا ہے۔ اور وہ باوجود کوشش کے قیمتوں میں بے پناہ اضافے اور اپنا ہاتھ تنگ ہونے کے باعث اس بار زیادہ سامان کی خریداری نہیں کرسکے۔

"ایک تو اس بار گاہک پہلے ہی کم ہیں۔ جو آتا ہے اسے ورائٹی چاہیے۔ اب اس مہنگائی میں ورائٹی کہاں سے لائیں۔ اور پھر یہ کاروبار ہے بھی موسمی۔ جو بک گیا سو بک گیا۔ بچنے والے سامان کو پورا سال اٹھائے اٹھائے پھرو۔ جو ضایع ہوگیا وہ نقصان، جو بچ گیا اسے پرانا ہونے کے سبب کوئی لیتا نہیں۔ سو مشکلیں ہیں جناب"۔

وحید کے قیمتوں میں اضافے کے دعوے کو جانچنے کے لیےراقم نے جشنِ آزادی کی مصنوعات کی ہول سیل مارکیٹ اردو بازار کا دورہ کیا تو خود اسے اپنے ہاتھوں کے طوطے اڑتے نظرآئے۔ مارکیٹ میں گاڑیوں پہ آویزاں کیے جانے والے پلاسٹک کے چھوٹے پرچم کی قیمت 75 سے 150 روپے، جبکہ خراب کاغذ پہ چھپا چھوٹے سائز کی 500 جھنڈیوں کا سیٹ 200 سے 250 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ سب سے کم تر کیٹیگری کا بیج 10 سے 15 روپے کی قیمت کا حامل ہے۔ جھنڈے اور جھنڈیاں چھاپنے والے پرنٹر بھی اس بار کاروبار نہ ہونے کا رونا روتے نظر آئے، تاہم ان میں سے بیشتر کے نزدیک کاروبار میں مندی کی وجہ بدترین مہنگائی اور صارفین میں قوتِ خرید کا نہ ہونے ہے۔

کئی افراد کے نزدیک کراچی میں جاری مون سون کی بارشوں اور ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بھی اس بار جشنِ آزادی کی سرگرمیاں ماند ہیں۔ جبکہ نوجوانوں کی جانب سے گلی محلوں کو جھنڈیوں سے سجانے کی روایت بھی اس بار شہر میں جاری مسلسل بارشوں کے باعث قائم نہیں رہ پائی۔ بیشتر نوجوانوں نے اس روایت کے ٹوٹنے کا سبب مہنگائی کو گردانا، کیونکہ ان کے نزدیک اس طرح کی سرگرمیاں گلی محلے والوں کے "چندے" سے انجام دی جاتی ہیں اور اس بار رمضان سر پر ہونے کے سبب آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی لوگوں کواس "فضول خرچی" کی اجازت نہیں دیتی۔

لیکن پہلوان گوٹھ کے رہائشی سالار خان نے ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے رکشے پر قومی پرچم لگایا ہے اور وہ سارا دن شہر کی سڑکوں پر اپنے اس رکشے کو، جسکی پشت پر انہوں نے "پاکستان ایکسپریس" کے الفاظ کندہ کرا رکھے ہیں، دوڑاتے پھرتے ہیں۔

سادہ مزاج اور روزانہ 400 روپے کے دیہاڑی دار49 سالہ سالار کے پاس ہمارے اس سوال کا تو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا کہ اس نے اتنی مہنگائی کے باوجود 150 روپے کا جھنڈا خرید نے کی "عیاشی" کیونکر افورڈ کی، تاہم اس نے ہماری "دلجوئی" کے لیے ہمیں "جیوے جیوے پاکستان" ضرور گنگنا کر سنایا۔ وہ الگ بات کہ اس قومی ترانے کی دھن گنگناتے گنگناتے سالار کے رکشے نے اتنے ہچکولے لیے کہ ہمیں اپنی زندگی کی دعائیں مانگنی پڑ گئیں۔

XS
SM
MD
LG