رسائی کے لنکس

’عوام کے تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے‘

  • یاسر منصوری

’عوام کے تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے‘

’عوام کے تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام مل کر ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

پاکستان کے 65 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں اتوار کو اسلام آباد میں منعقدہ تقریبِ پرچم کشائی سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ”تمام سیاسی رہنما اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ انشاالله ہم دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔“

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کرنے کے الزامات ”بے بنیاد“ ہیں کیوں کہ اُن کا ملک خود انتہاپسندی اور دہشت گردی کا شکار ہے۔

بین الاقوامی برادری سے پاکستان کے سفارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت خارجہ پالیسی کو افہام و تفہیم اور پُرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر آگے بڑھا رہی ہے۔ اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ دوسرے ملک بھی پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کریں گے۔

”امریکہ سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کے تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مگر کسی کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔“

اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے اس خفیہ آپریشن کے بعد سے انتہائی کشیدہ ہیں جس میں القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کو اس کارروائی کی پیشگی اطلاع نہیں کی گئی تھی۔ تاہم دونوں ملکوں کی سیاسی و فوجی قیادت روابط کی بحالی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ اُن کا ملک بھارت سے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کا خواہاں ہیں لیکن اُنھوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کو اپنا عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت حاصل کرنے کی کوششوں میں ”سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت “بلا روک ٹوک جاری رکھے گا۔

ملک میں توانائی کے بحران کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اُن کی حکومت کو ورثے میں ملا لیکن گزشتہ تین سال کے دوران کی گئی کوششوں کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اُن کے بقول بہت جلد ملک سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مقننہ اور عدلیہ کے درمیان بظاہر پائے جانے والے تناؤ کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہوئے عدلیہ کے تمام فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہر قومی ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئین اور اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے۔‘‘

وزیر اعظم گیلانی نے اپنی تقریر میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ملک میں جاری بحث پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حالیہ دنوں میں صوبے کی جنوبی سرائیکی پٹی کو الگ صوبے کا درجہ دینے کے حق میں تین قراردادیں جمع کرائی ہیں۔ پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کا الزام ہے کہ سرائیکی صوبے کے مطالبات کی وجہ سیاسی مفادات ہیں اور اس نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام پر غور خوض کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی ہے جسے وفاقی حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG