رسائی کے لنکس

بھارت کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کے خواہاں ہیں، گیلانی


وزیراعظم گیلانی کانفرنس کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
وزیراعظم گیلانی کانفرنس کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے ایک نئے دور کے آغاز اور عوامی رابطوں میں اضافے کا خواہاں ہے تاکہ آئندہ نسلوں کو امن و خوشحالی کی روایات ورثے میں ملیں۔

لاہور میں پاکستان اور بھارت کی دو روزہ اقتصادی کانفرنس کے آغاز پر پیر کو وزیراعظم گیلانی نے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی فلاح و بہبود کا انحصار باہمی احترام اور اعتماد پر مشتمل دوطرفہ تعلقات پر ہے۔

دونوں پڑوسی ممالک کی معروف کاروباری شخصیات سے خطاب میں وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ تاجر دونوں ملکوں کے بہترین سفیر ہیں اور دوطرفہ تجارت دونوں کے مفاد میں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ بھارت سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ ’’غربت، بیماری اور عدم توجہ دونوں ممالک میں بسنے والے عوام کا مقدر نہیں ہونا چاہیئے۔‘‘

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے بڑے صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کی اس کانفرنس میں شرکت دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے میں نجی شعبے میں سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی کے کشیدہ تعلقات سے دونوں ممالک کے عوام متاثر ہوئے اس لیے ضروری ہے کہ باہمی احترام اور اعتماد پر مشتمل تعلقات استوار کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

کانفرنس سے خطاب میں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر شرت سبروال نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے ان کا ملک پاکستانی سرحد پر نئے زمینی راستے کھولنے پر غور کر رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم 12 ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔

کانفرنس میں شریک پاکستانی تاجروں نے بھارت سے غیر محصولاتی رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جب کہ بھارت کی کاروباری شخصیات کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تجارتی اشیاء کی منفی فہرست ختم کر دینی چاہیئے۔

پاکستان کے سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ منفی فہرست میں اشیاء کی تعداد محض 1029 ہے جن کو بھارت سے درآمد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ پاکستانی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے متعلقہ عہدیدار یکساں تجارتی سہولتوں کی فراہمی پر متفق ہو گئے تو ’منفی فہرست‘ اس سال 31 دسمبر تک ختم کر دی جائے گی۔

وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ ماضی میں قیمتی وقت ضائع کیا جا چکا ہے اور مزید ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان نا صرف تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے بلکہ تجارت اور اقتصادی روابط کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG