رسائی کے لنکس

پاک بھارتی تجارتی تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے


پاک بھارتی تجارتی تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے

پاک بھارتی تجارتی تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے

کشمیر جیسے عشروں پرانے تنازع پر کسی پیش رفت کے بغیر تجارتی شعبے میں پاک بھارت تعاون کتنا دیر پا ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے ؟

پاکستان نے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازع پر کسی پیش رفت کے بغیر اقتصادی شعبے میں تعاون کس قدر دیرپا ثابت ہوسکتی ہے۔

اس سلسلے میں واشنگٹن میں قائم امریکی تھینک ٹینک یوایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں میں پاکستان اور بھارت کے دو سابق خارجہ سیکرٹریوں کو اظہار رائے کی دعوت دی۔ ان کے خیالات دونوں ہمسایہ اور حریف ملکوں کی سوچ اور موقف کی عکاسی کرتے ہیں اورخطے کے مستقبل کی ایک تصویر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

کشمیر جیسے عشروں پرانے تنازع پر کسی پیش رفت کے بغیر تجارتی شعبے میں پاک بھارت تعاون کتنا دیر پا ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے ؟پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ اقتصادی شعبے میں پیش رفت کے بعد دوسرے معاملات پر بھی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ کمپوزیٹ ڈائیلاگ کا مقصد ہی یہ تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ چلتا رہے اور پھر جیسے جیسے تعلقات بہتر ہوتے جائیں گے تو دونوں ملک اپنے اہم اور بڑے مسائل کے حل کی جانب بھی آگے بڑھ سکیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر تو رہا ایک طرف، بھارت دوسرے معاملات ، جیسے سیاچین کی ہی مثال لے لیں، اس پر معاہدہ ہوچکاہے لیکن بھارت عمل درآمد سے گریز کررہاہے۔

سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ للیت مان سنگھ اس سلسلے میں شمشاداحمد کے اس خیال سے متفق نظر آئے کہ تجارتی تعلقات میں پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان موجود مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بھارت کوتجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینا خوش آنند ہے اور توقع ہے کہ اس سلسلے میں ہم مزید آگے بڑھیں گے اور افغانستان اور اس سے آگے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لیے زمینی راستہ کھول دیا جائے گا۔جس سے تجارت کو فروغ ملے گا۔

اس کا کہناہے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی اشیاء سنگاپور اور دبئی وغیرہ سے لیتے ہیں ، تجارتی تعلقات میں بہتری کے بعد وہ براہ راست تجارت کرسکیں گے ۔

پاک بھارت تجارتی تعلقات کے موضوع پر امریکی کانگریس مین جیم میک ڈرمیٹ کا، جن کے دونوں ملکوں کے تعلقات اور حالات پر گہری نظر ہے، اس سوال کے جواب میں کہ ایک ایسے وقت میں جب پاک امریکہ تعلقات اپنے مشکل ترین دور سے گذررہے ہیں، کیا پاک بھارت تعلقات میں امریکہ کے کسی کردار کی گنجائش موجود ہے ، کہناتھا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ ماضی میں دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کردار ادا کرچکاہے۔

للت مان سنگھ نے کہا کہ مسٹر واجپائی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ہمیں کسی مترجم کی ضرورت نہیں ، ہم ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں۔ لہٰذاکشمیر جیسے مشکل معاملات سے لے کر ویزا اور دونوں جانب سے لوگوں کی آمدورفت جیسے امور کو دونوں ممالک ایک ساتھ بیٹھ کر حل کرسکتے ہیں ۔

شمشاد احمد خان نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت اپنے معاملات خود طے کرسکتے ہیں ۔ امریکہ کو خطے میں پیدا ہونے والے عدم توازن کے لیے کام کرناچاہیے۔

کانگریس مین میک ڈرمیٹ کی رائے تھی کہ تعلقات میں بہتری کے لیے گفتگو کو جاری رکھنا انتہائی اہم ہے ۔

XS
SM
MD
LG