رسائی کے لنکس

پاک بھارت کرکٹ بحالی کا 'امکان' خوش آئند ہے: مبصرین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

زمبابوے کی ٹیم کا دورہ پاکستان 19 مئی سے شروع ہو رہا ہے جس میں تین ایک روزہ بین الاقوامی اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کی بحالی کے آثار تو نمودار ہوئے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ رواں سال دسمبر میں پاکستان اس سیریز کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے اپنے حالیہ دورہ بھارت میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا "بی سی سی آئی" کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کی تھیں جس میں دوطرفہ کرکٹ روابط کی بحالی سے متعلق پیش رفت کا بتایا گیا۔

ادھر بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آچکی ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے ذریعے تعلقات میں بہتری کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

اسی دوران شہریار خان نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کو آئندہ ہفتے زمبابوے کے خلاف کرکٹ سیریز کے میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت بھی دے ڈالی ہے۔

زمبابوے کی ٹیم کا دورہ پاکستان 19 مئی سے شروع ہو رہا ہے جس میں تین ایک روزہ بین الاقوامی اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔

مبصرین پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کی خبروں پر محتاط انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ بحال ہوتا ہے تو یہ دونوں ملکوں میں کرکٹ کے لیے خوش آئند ہوگا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کرکٹ کو کھیل تک ہی محدود رکھتے ہوئے سیاست کو اس سے دور ہی رکھا جانا چاہیے۔

"اگر یہ بحال ہوتی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔۔۔پاکستان نے تو کبھی نہیں چاہا کہ وہ بھارت کے ساتھ نہ کھیلے یہ تو پتا نہیں کبھی خبر آتی ہے کہ کوئی ٹیم کھیلنے کو تیار نہیں پاکستان سے اور اس کی وجہ بھی نامعلوم ہی ہوتی ہے تو میرا خیال ہے سیاست کو کرکٹ سے دور ہی رکھنا چاہیئے۔"

کرکٹ کے میدان میں دونوں روایتی حریفوں کے مقابلے میں پوری دنیا کے شائقین کرکٹ خاص دلچسپی لیتے ہیں اور مبصرین کے بقول ایسے مقابلے خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔

بعض سینیئر کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس سے کرکٹ روابط بھی خود بخود بحال ہو جائیں گے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کو اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG