رسائی کے لنکس

موازنہ: پاکستان بالنگ اور بھارت بیٹنگ میں مضبوط


موازنہ: پاکستان بالنگ اور بھارت بیٹنگ میں مضبوط

موازنہ: پاکستان بالنگ اور بھارت بیٹنگ میں مضبوط

پاکستانی کپتان شاہد خان آفریدی نے موجودہ ٹیم میں بھارت کے خلاف63 میچوں میں60 اننگز کھیل کر سب سے زیادہ 25 اعشاریہ 26 کی مدد سے 1440 رنز بنا رکھے ہیں جس میں دو سنچریاں اور 4 نصف سنچریاں شامل ہیں

بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی کرکٹ جنگ کا سیمی فائنل شروع ہونے میں اب صرف چند گھنٹے بچے ہیں۔ گرین شرٹس کی جانب سے شاہد آفریدی ، یونس خان ، عبدالرزاق ، شعیب اختر جبکہ ٹیم انڈیا کی جانب سے سچن ٹنڈولکر ، یوراج سنگھ ، وریندرسہواگ ، ظہیر خان اور اشیش نہرامیدان میں اترنے اور نئے کارنامے رقم کرنے کے لئے بیتاب ہیں ۔ ماضی کی کارکردگی کے جائزے کے مطابق بیٹنگ میں بھارت کو جبکہ بالنگ میں پاکستان کو برتری حاصل ہے ۔
پاکستانی کپتان شاہد خان آفریدی نے موجودہ ٹیم میں بھارت کے خلاف63 میچوں میں60 اننگز کھیل کر سب سے زیادہ 25 اعشاریہ 26 کی مدد سے 1440 رنز بنا رکھے ہیں جس میں دو سنچریاں اور 4 نصف سنچریاں شامل ہیں ۔بھارت کے خلاف ان کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور 109 ہے ۔یونس خان کا نمبر ان کے بعد ہے جنہوں نے بھارت کے خلاف 31 مقابلوں میں حصہ لیا اور 3 سنچریوں اور 5 نصف سنچریوں کی مددسے 1106 رنز بنائے ۔ بھارتی بالنگ کے خلاف ان کی اوسط 40 اعشاریہ 96 ہے جوحالیہ ٹیم میں موجودہ کسی بھی بلے باز سے زیادہ ہے ۔ پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر عبدالرزاق بھارت کے خلاف تیسرے کامیاب پاکستانی بلے باز ہیں جنہوں نے 34 مقابلوں میں 32 اننگز کھیل کر 24 اعشاریہ 96کی اوسط سے 624 رنز بنا رکھے ہیں جس میں چار بار انہوں نے 50 کا ہندسہ عبور کیا ۔
دوسری جانب بھارت کے لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکرنے گرین شرٹس بالرز کے سامنے 39 اعشاریہ 16 کی اوسط سے سب سے زیادہ 3916 رنز اپنے ریکارڈ کا حصہ بنائے ۔ سچن نے 67 میچوں میں 65 اننگز کھیلیں اور پانچ شاندار سنچریاں اور 14نصف سنچریاں اپنے نام کیں جبکہ 141 رنز ناٹ آؤٹ ان کی گرین شرٹس کے خلاف یاد گار اننگز ہے ۔ بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ کو پاکستان کے خلاف 32 مقابلوں میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل ہے جس میں ایک سنچری اور گیارہ نصف سنچریوں کی مدد سے انہوں نے 1251 رنز بنائے۔ ان کی اوسط 48 اعشاریہ 4 ہے ۔ اوپنر وریندر سہواگ پاکستان کے خلاف تیسرے کامیاب بلے باز ہیں جنہوں نے 28 میچوں میں 35.64 کی اوسط سے دو سنچریوں اور 6 نصف سنچریوں کی مدد سے965 رنز کیے ۔ ان کے علاوہ بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے بھی پاکستان کے خلاف شاندار 54 اعشاریہ 22 کی اوسط سے 976 رنز بنا رکھے ہیں جس کے لئے وہ 24 مرتبہ پاکستان کے خلاف میدان میں اترے ۔ وہ پاک ٹیم کے خلاف 148 رنز کی شاندار انفرادی اننگز بھی کھیل چکے ہیں ۔

بیٹنگ کے شعبے میں پاکستان کے زیادہ تر بلے بازوں کو بھارت کے خلاف کھیلنے کا زیادہ تجربہ نہیں جن میں محمد حفیظ ، اسد شفیق ، عمر اکمل اور مصباح الحق شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کا نام بھارت کے خلاف کامیاب بیٹنگ لائن میں آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب سچن ٹنڈولکر ، وریندر سہواگ ، یوراج سنگھ اور دھونی کا پاک ٹیم کے خلاف وسیع تجربہ بھارتی ٹیم کو سبقت دلا رہا ہے۔
گیند بازی میں پاکستان کی جانب سے راولپنڈی ایکسپریس ماضی میں بھارتی بیٹنگ لائن کی تباہی کا سب سے زیادہ سبب بنی ۔ شعیب اختر کو سب سے زیادہ 41بھارتی وکٹیں اڑانے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی اوسط26 اعشاریہ 78 ہے جبکہ اکانومی ریٹ 4 اعشاریہ 59 ہے ۔ 36 رنز کے عوض 4 وکٹیں ان کی یاد گار بالنگ ہے ۔ ان کے بعد کپتان شاہد خان آفریدی کا نمبر آتا ہے جنہیں بھارت کے خلاف 63 بار میدان میں اترنے کا وسیع تجربہ ہے ۔ شاہد بھارت کے خلاف55.50 کی اوسط سے38 بھارتی بلے بازوں کو واپسی کی راہ دیکھاچکے ہیں جبکہ ان کا اکانومی ریٹ 5 ہے ۔عبدالرزاق نے بھارتی بلے بازوں کے خلاف 34 میچوں میں 39 اعشاریہ 45 کی اوسط سے 34 وکٹیں اپنے نام کیں اور ان کا اکانومی ریٹ 5 اعشاریہ 3 ہے ۔ عمر گل نے بھی 12 میچوں میں 13 وکٹیں لے رکھی ہیں ۔
اس کے مقابلے میں بھارت کی موجودہ ٹیم میں سچن ٹنڈولکر نے 67 میچوں میں 45 اعشاریہ 86 کی اوسط سے 29 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور ان کا اکانومی ریٹ 5.43 ہے ۔ ظہیر خان کا نمبر ان کے بعد ہے جنہوں نے 22 مقابلوں میں 41 اعشاریہ 76 کی اوسط سے 26 پاکستانیوں کو آؤٹ کیا اور ان کا ایک اوورز کا اکانومی ریٹ 5.63 ہے ۔ پاکستان کے خلاف ان کی بہترین بالنگ 66 رنز کے عوض 3 وکٹیں ہیں ۔ اشیش نہرا پاکستان کے خلاف تیسرے کامیاب گیند باز ہیں جنہوں نے 13میچوں میں 31 اعشاریہ 29 کی اوسط سے 24 پاکستانی وکٹیں اپنے نام کیں اور ان کا اکانومی ریٹ 6 اعشاریہ 15 ہے ۔ ان کے علاوہ اسپنر ہربھجن سنگھ نے 63 اعشاریہ 16 کی اوسط سے 16 میچوں میں صرف 12 وکٹیں حاصل کیں جبکہ یوراج سنگھ نے 32 میچوں میں 11 وکٹیں لے رکھی ہیں ۔
لہذا اگر دونوں ٹیموں کی بالنگ لائن کا موازنہ کیاجائے تو اس میں گرین شرٹس کو برتری حاصل ہے کیونکہ سچن ٹنڈولکر جیسے گیند باز کو سب سے زیادہ پاکستان کے خلاف وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز ہے جنہیں اب کپتان دھونی بہت ہی کم استعمال کرتے ہیں جبکہ بھارتی بالنگ کا انحصار اس عالمی کپ میں زیادہ ترظہیر خان پر ہے اور یہ بھی پاکستان کے خلاف کبھی موثر ثابت نہیں ہو سکے ۔ ان کے علاوہ ہربھجن اور یوراج سنگھ کا بالنگ ریکارڈ بھی پاک ٹیم کی بیٹنگ لائن کے سامنے کچھ زیادہ بہتر نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں شعیب اختر کو ماضی میں بھارتی بلے باز اعتماد سے کھیلتے نظر نہیں آرہے اور اگر کل انہیں موقع ملے تو شعیب اختر ایک مرتبہ پھر موثر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں ۔ ان کے علاوہ شاہد خان آفریدی اور عبدارلزاق کا ریکارڈ خاصہ بہتر نظر آ رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG