رسائی کے لنکس

پاک بھارت کرکٹ سیریز، تعلقات کی بحالی کی سمت اہم قدم

  • واشنگٹن

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ سال بعد دوطرفہ کرکٹ سیریز کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ پر شائقین کا جوش وخروش۔ بنگلور ۔ 25 دسمبر 2012

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ سال بعد دوطرفہ کرکٹ سیریز کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ پر شائقین کا جوش وخروش۔ بنگلور ۔ 25 دسمبر 2012

مبصرین کا کہناہے کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے اور کرکٹ میچوں کے انعقاد کی نسبت دونوں ملکوں کے درمیان موجودبداعتمادی کو دور کرنا آسان نہیں ہے، جس کی سطح اب بھی دونوں حریفوں کے درمیان بدستور بہت بلند ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کی سرگرمیوں کے بحال ہونے اور کرکٹ میچوں کی سیریز کا انعقاد جنوبی ایشیا کے ان دونوں حریف ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ چار سال پہلے بھارت کے مالیاتی مرکز ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں بگڑجانے والے تعلقات کی بحالی کے لیے حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں نے کئی اقدامات کیے ہیں۔

کرکٹ کے مورخ اور مصنف بوریا مجومدارنے کئی ایسے تاریخی مقابلوں کا ذکرکیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ میدان جنگ کا منظر پیش کررہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کھیلتے ہیں تو کرکٹ میچ دونوں ملکوں کے درمیان قومی وقار اور برتری کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس وقت یہ کرکٹ میچ نہیں رہتا بلکہ حقیقتا ایک ایسی جنگ بن جاتا ہے جس میں گولیاں نہ چل رہی ہوں۔

لیکن ان دنوں حریف ملکوں کے درمیان پانچ سال کے بعد جب پہلی بار منگل کے روز بنگلور میں دوطرفہ کرکٹ سیریز کا پہلا میچ ہوا توصورت حال مختلف تھی۔

اس کرکٹ سیریز سے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ اور کشیدگی پگھل سکتی ہے۔ کرکٹ کے مورخ بوریا مجومدار کہتے ہیں اس سے پگھلاؤ تو شروع ہونا ہی تھا۔

ان کا کہناہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ سیریز ایک شائستہ ماحول میں کھیلی جاری ہے۔ میں کھلاڑیوں کے درمیان دوستانہ ماحول دیکھ رہا ہوں اور دونوں ملکوں کے کھلاڑی میرے دوست ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے فرد سے فرد کے درمیان رابطے بڑھیں گے ، ان میچوں سے سال نو کے تہوار کے موسم میں بہتر تفریح کو فروغ ملے گا۔

دونوں ملکوں میں کرکٹ کے لیے جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف بین الاقوامی میچوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ لیکن یہ ایسی پہلی دوطرفہ کرکٹ سیریز کے مقابلے ہیں جو اس کے بعد کھیلے جارہے ہیں جب 2008 میں ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے بعد، جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد ملوث تھے، بھارت نے اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کھیلوں کے رابطے توڑ دیے تھے۔

دوطرفہ کھیلوں کا سلسلہ دوبارہ شرو ع کرنے کا مقصد جنوبی ایشیا کے ان حریف ممالک کے درمیان امن کے عمل کو آگے بڑھانا ہے، جسے دہشت گرد حملوں سے نقصان پہنچاتھا۔

اس سال توجہ کا مرکز تجارتی روابط کا فروغ رہاہے۔ دونوں ملکوں نے حال ہی میں اپنی ویزا پالیسیوں میں نرمی کی ہے تاکہ تاجروں اور سیاحوں کے لیے سفری دستاویزات کا حصول آسان ہوجائے۔

بھارت نے کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے پاکستانی شائقین کو تین ہزار ویزے جاری کرنے کی حامی بھری تھی۔ اس سال کے شروع میں بھارت نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کی غرض سے پنجاب کی سرحد پر بہت بڑا کسٹم ڈپو قائم کیا تھا۔

دونوں فریقوں کو توقع ہے کہ تجارت اور لوگوں کے درمیان باہمی رابطوں میں اضافے سے امن کی سفارتی کوششوں میں مزید تیزی آئے گی۔

بھارت کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر سلمان بشیر نے پچھلے ہفتے نئی دہلی میں کاروباری افراد کی ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو رابطے بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

ان کا کہناتھا کہ تعلقات ایک انتہائی اہم اور انتہائی نازک چیز ہے۔ سب سےاہم چیز مشترکہ تصور کا واضح ہونا ہے۔ مشترکہ تصور کے بغیر ہم آسانی سے کسی غطط سمت میں جاسکتے ہیں۔ اچھے تعلقات نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام ، بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہیں۔

مبصرین کا کہناہے کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے اور کرکٹ میچوں کے انعقاد کی نسبت دونوں ملکوں کے درمیان موجودبداعتمادی کو دور کرنا آسان نہیں ہے، جس کی سطح اب بھی دونوں حریفوں کے درمیان بدستور بہت بلند ہے۔

لیکن فی الحال کرکٹ کے ہزاروں شیدائی جمعے کے روز احمد آباد میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ کے منتظر ہیں۔ پہلا ٹی ٹونٹی میچ پاکستان نے جیت لیاتھا۔
XS
SM
MD
LG