رسائی کے لنکس

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

  • روی کھنا

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

جنوبی ایشیا میں 2010ء کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشمکش جاری رہی۔ دونوں ملکوں نے امن کے عمل کو بحال کرنے کی کوشش کی جو 2004 میں شروع ہوا تھا لیکن چار سال بعد بھارت کے شہر ممبئی پر دہشت گردی کے حملوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ لیکن امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش گذشتہ سال گرمیوں میں ٹھنڈی پڑ گئی کیوں کہ، اطلاعات کے مطابق، بھارت صرف سکیورٹی اور دہشت گردی کے مسائل پر بات کرنا چاہتا تھا جب کہ پاکستان کا اصرار تھا کہ کشمیر کے متنازعہ علاقے سمیت تمام مسائل پر بات کی جائے۔

واشنگٹن میں جنوبی ایشیا کے امور کے مبصرین کہتے ہیں کہ اس سال بھی علاقے کے لیے اہم سوال یہی ہوگا کہ بھارت اور پاکستان اپنے امن مذاکرات میں تعطل کتنی جلدی ختم کر سکتےہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے اقتصادی تعلقات میں پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔

امن مذاکرات کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب 2008ء میں ممبئی پر دہشت گردوں کے حملوں سے بھارت میں حفاظتی انتظامات کی کمزوری کُھل کر سامنے آگئی۔ اور یہ تعطل اب بھی جاری ہے کیوں کہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حملہ آور دہشت گردوں کو سزا دینے میں، جن کا تعلق پاکستان میں قائم عسکریت پسند گروپ لشکرِ طیبہ سے ہے، سستی سے کام لیا ہے۔

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

امن کا عمل 2004ء میں شروع ہوا تھا جب صدر جنرل پرویز مشرف برسرِ اقتدار تھے۔ جنرل مشرف کہتے ہیں کہ 2008ء میں اپنے استعفے سے پہلے، وہ بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے اور کشمیر کے دیرینہ تنازعے پر سمجھوتے کے بہت نزدیک پہنچ چکے تھے۔

’’بات بڑے اطمینان بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہم نے اپنی بات چیت کی حدود متعین کر لی تھیں اور ہم ایک سمجھوتے کا مسودہ تیار کر رہے تھے۔ میرے خیال میں یہ بہت برا ہوا کہ ہم ان مذاکرات کو نتیجہ خیز نہیں بنا سکے۔ لیڈروں اور ملکوں کی زندگیوں میں بعض مختصر سے لمحات آتے ہیں اور کامیابی کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ان لمحات کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔‘‘

جنرل مشرف نے لشکرِ طیبہ پر پابندی لگا دی تھی لیکن اس کے لیڈروں نے دو بار نام تبدیل کیا اور ایک فلاحی تنظیم کی آڑ میں کارروائیاں جاری رکھیں۔ بھارت کہتا ہے کہ اسے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں اس وقت تک کوئی دلچسپی نہیں ہے جب تک پاکستان بھارت کے مخالف دہشت گرد گروپوں کی بیخ کنی نہیں کرتا جو اس کی سرزمین سے کارروائیاں کرتے رہے ہیں، اور ممبئی پر حملے میں ملوث عسکریت پسند لیڈروں کو سزا نہیں دیتا۔ پاکستان کہتا ہے کہ اسے ان لوگوں کو سزا دینے کے لیے مزید ثبوت درکار ہیں۔ بھارت نے الزام لگایا ہے کہ یہ محض تاخیری حربے ہیں۔

لیکن پاکستان کے ایک اعلیٰ تجزیہ کار، اکرام سہگل کہتے ہیں کہ بھارت کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو وسعت دے، جیسا کہ اس نے چین کے ساتھ، اپنے سرحدی تنازعات کے باوجود، کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کر لیے جو بالآخر سیاسی تعلقات میں تبدیل ہو جائیں گے۔ میرے خیال میں ہمیں بھارت سے ایسی ہی توقعات ہیں۔‘‘

اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا پروگرام کے ڈائرکٹر شجاع نواز واشنگٹن کا کہنا بھی یہی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اقتصادی تعلقات بہتر ہونا ضروری ہیں۔

’’پاکستان کی معیشت سکڑ رہی ہے جب کہ بھارت کی معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں وحدتِ فکر مفقود ہے۔ سویلین حکومت اور فوج کا اندازِ فکر الگ الگ ہے ۔ انہیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ اقتصادی ترقی کتنی ضروری ہے اور آج کل اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے بھارت کے ساتھ تجارت۔‘‘

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے اقتصادی تعاون ضروری: ماہرین

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان، 2009ء میں تجارت کی کُل مالیت دو ارب ڈالر سے بھی کم تھی۔ ایک دوسرے کو تجارت میں ’’most favored nation‘‘ کا درجہ دینے کا سمجھوتہ اب بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ لیکن کئی تجارتی ایسوسی ایشنوں نے اندازہ لگایا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ چھ سے 10 ارب ڈالر تک کی تجارت ہو سکتی ہے۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات میں اضافہ اس لیے نہیں ہو سکا ہے کیوں کی فوج کی طرف سے سویلین حکومت کی کوششوں کی مزاحمت کی جا رہی ہے۔

’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر کوشش کی جائے۔ پاکستان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج کی قیادت کو اس معاملے میں اسی طرح شامل کیا جائے جس طرح امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شامل کیا گیا ہے۔‘‘

ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ تجارتی تعلقات میں وسعت کے ذریعے، 2011ء میں ان دونوں ملکوں کے درمیان تعطل ختم ہو جائے گا کیوں کہ جنوبی ایشیا کے مجموعی اقتصادی ایجنڈے کا انحصار ان ملکوں کے تعلقات کی کیفیت پر ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG