رسائی کے لنکس

پاکستان بھارت تنازع حکومتوں کا جھگڑا ہے، عوام کا نہیں: امن کارکن

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ممبئی میں مقیم جتن ڈیسائی نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ جس طریقے سے ہندوستان کی طرف سے بیان بازی شروع ہوئی، وہ کافی غلط تھی، اس کی ہم نے سخت مذمت کی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں بھارت اور پاکستان کے عہدیداروں کے درمیان تلخ بیان بازی سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی، مگر بالآخر جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اپنے پاکستانی ہم منصب کو رمضان کی مبارکباد کے ٹیلی فون، پاکستان کی طرف سے 113 بھارتی ماہی گیروں اور بھارت کی طرف سے 88 پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کے بعد حالات میں بظاہر بہتری آئی ہے۔

مگر پاکستان اور بھارت میں امن کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ تندو تیز بیانات کسی کے مفاد میں نہیں، اور ایسے بیانات سے ان ملکوں کے عوام کے علاوہ جنوبی ایشیا کے باقی ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں۔

تعلقات بہتری کی طرف جانا، پھر کوئی بڑا واقعہ ہو جانا، حکومتوں کے درمیان دشنام ترازیوں کا سلسلہ جاری رہنا اور پھر حالات کا پہلی سطح پر واپس آ جانا پاکستان اور بھارت کے عوام کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

ایسا ماضی میں بھی کئی مرتبہ ہو چکا ہے مگر اس سے دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہزاروں خاندانوں اور ایک دوسرے سے ملنے کے خواہش مند کروڑوں لوگوں کی امنگوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

سرحد کے دونوں جانب کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں مگر جب حکومتیں آپس میں سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں تو اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

معروف پاکستانی صحافی اور دونوں ممالک کے درمیان امن کے فروغ میں پیش پیش بینا سرور کا کہنا ہے کہ ’’لوگ آپس میں ملنا چاہتے ہیں، لوگ چاہتے ہیں تجارت ہو، بات چیت ہو، گھومیں پھریں، ایک دوسرے کے کھانے کھائیں، موسیقی سنیں، شادی بیاہ کے موقع پر شرکت کریں۔ مگر جب حکومتیں ویزہ نہیں دیں گی تو لوگ کس طرح اپنی خواہشیں پوری کریں گے؟‘‘

ممبئی میں مقیم جتن ڈیسائی نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ ’’جس طریقے سے ہندوستان کی طرف سے بیان بازی شروع ہوئی، وہ کافی غلط تھی، اس کی ہم نے سخت مذمت کی ہے۔ اس طرح کی بیان بازی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، صرف ایک دوسرے سے نفرت حاصل ہوتی ہے۔ ہم لگاتار چاہتے رہے ہیں کہ لوگوں کا آنا جانا ہو، لوگوں کو ویزہ ملنا چاہیئے۔‘‘

جتن پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے بھارتی چیپٹر کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

1947ء میں تقسیم ہند کے وقت دونوں ممالک کی آبادیوں کی ہجرت میں لوگوں کو پیش آنے والے دردناک واقعات کی یاد دوسری اور تیسری نسل کے بعد رفتہ رفتہ دھندلی پڑ رہی ہے۔

حکومتی سطح پر تلخی کے باوجود دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے لیے کشش محسوس کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو عزت اور محبت کے جذبات سیاسی اور فوجی محاذ آرائی کے خیالات کو زائل کر دیتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور سرحد پار سے آنے والے فنون، موسیقی، فلموں اور ڈراموں کے ذریعے بھی لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔

2004ء میں دونوں ممالک میں جامع امن مذاکرات شروع ہونے اور لوگوں کے درمیان رابطوں میں اضافے کے بعد سرحد کے دونوں جانب ان گنت لوگوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک دوسرے سے مل کر ایسا لگا جیسے اپنے بچھڑے رشتہ داروں سے مل رہے ہوں۔

اس سال مارچ میں ممبئی سے تعلق رکھنے والی ایک بھارتی صحافی عارفہ جوہری نے اپنے اسلام آباد کے چار روزہ دورے میں پاکستانیوں کی میزبانی کی روداد ’ڈان‘ اخبار میں لکھتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’بھارتیوں کے لیے پاکستانیوں کی دلداری ہر طرف نظر آئی، رعائتوں اور تحائف میں اور مشترکہ ثقافتوں، بالی وڈ اور کرکٹ کے بارے میں لوگوں سے دلچسپ گفتگو میں۔‘‘

لاہور میں زیرِ تعمیر ’یونیورسٹی آف آرٹس اینڈ کلچر‘ اور تھیٹر فنون سے وابستہ قیصر عباس 2004ء سے متعدد بار بھارت میں فن کا مظاہرہ کرنے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ہمسایہ ملک میں اپنے تجربات سناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے میزبان تو ہماری عزت افزائی اور خدمت کرتے ہی ہیں، مگر ہمیں اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اجنبی لوگ یہ سنتے ہی کہ ہم پاکستان سے ہیں بے ساختہ انسیت کا اظہار کرتے ہیں۔ رکشہ والے کرایہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں اور میری اہلیہ بھارت کی ’پنجاب یونیورسٹی‘ میں کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتوں باتوں میں وہاں لوگوں کو پتا چلا کہ ہم پاکستان سے ہیں تو وہاں آس پاس سب لوگ ہم سے ملنے اور بات کرنے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔‘‘

پاکستان کا ایک واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی پنجاب کے شہر دیپالپور میں ایک میلے میں، جہاں قیصر منتظمین میں شامل تھے، بھارتی پنجاب سے کچھ لوگ شرکت کے لیے رات ایک بجے کے بعد پہنچے۔

جب گاؤں میں لوگوں کو پتہ چلا کہ بھارت سے مہمان آئے ہیں تو سورج ڈوبنے کے بعد سو جانے والے لوگ ان سے ملنے کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے۔ سب لوگ چاہتے تھے کہ وہ ان کے گھر رکیں، ان کے ساتھ کھانا کھائیں، ان سے بات کریں۔

’’میلے کے اگلے پانچ روز تک وہ پورے گاؤں کے مہمان تھے اور منتظمین کو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کس کس کے ہاں رہ رہے ہیں۔‘‘

لیکن بدقسمتی سے 2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد مذاکرات میں آنے والے تعطل سے لوگوں کے رابطوں میں کافی کمی آئی ہے۔

بینا سرور کا کہنا ہے پاک بھارت تنازع حکومتوں کا جھگڑا ہے، عوام کا جھگڑا نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ ’’سکیورٹی ایجنسیوں کی لڑائی ہے۔ ان کو یہ لگتا ہے کہ ہم جب دوسرے کو دشمن دکھائیں گے تو اس سے ہماری طاقت بڑھے گی، جبکہ ایسا نہیں۔‘‘

’’حقیقت یہ ہے کہ آپ کی طاقت تب بڑھے گی جب آپ اپنے عوام کو تعلیم، رہنے کی جگہ، صاف پانی مہیا کریں گے، جب حاملہ عورت محفوظ طریقے سے اپنے بچوں کو جنم دے سکے گی۔ وہ اصل سکیورٹی ہے۔ سکیورٹی یہ نہیں کہ آپ اپنے بارڈرز کو پکا کر لیں اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ وہ کس طرح سوچیں۔ لوگ بہت معقول طریقے سے اپنی سوچ خود بنا سکتے ہیں۔‘‘

ایک دوسرے سے میل جول اور رابطوں کے نہ ہونے کے باعث کئی دہائیوں تک دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام میں ایک دوسرے کے بارے میں ایک خوفناک تاثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن اب ایسا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا جا رہا ہے۔

جتن ڈیسائی نے اس موضوع پر کہا کہ ’’رابطے نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے بارے میں کافی غلط فہمیاں ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ملک کو سمجھنے دینا نہیں چاہتے ہیں، ایک دوسرے کے ملک میں آسانی سے جانے نہیں دینا چاہتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے کے ملک کے بارے میں جو غلط فہمی ہے وہ برقرار رہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر اکٹھے ہوں اور سنجیدگی سے امن کی طرف کام کریں کیونکہ جب ان دو ممالک میں کشیدگی ہوتی ہے، تو اس کا اثر جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے چھوٹے ممالک پر بھی ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، پاکستان اور افغانستان پر مشتمل جنوبی ایشیا دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جس میں لوگوں کے درمیان سب سے کم رابطہ ہے۔

جنوبی ایشیا میں زمینی راستے محدود ہیں اور کوئی ایسی فضائی سروس نہیں ہے جو تمام سارک ملکوں میں پرواز کرتی ہو۔ ایک ملک کے موبائل فون دوسرے ملک میں نہیں چلتے اور لوگ ایک دوسرے کے ممالک میں بہت کم سفر کرتے ہیں۔

جتن کے بقول علاقائی اتحاد کے طور پر اگر سارک ممالک ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آسانی سے ایک دوسرے ملک میں آمدو رفت ہو سکے۔

’’جس طریقے سے مشرقی ایشیا کے آسیان ممالک، یورپی یونین، جنوبی امریکہ یا شمالی امریکہ کے ممالک آپس میں تعاون کر رہے ہیں، وہ سارک میں نہیں ہو رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے آپسی تعلقات ٹھیک نہیں۔ ان دونوں ملکوں کی قیادت کو پسماندہ ملکوں کے لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیئے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ ہمیں رابطے بڑھانے چاہیئں، اور پورے سارک میں بڑھانے چاہیئں اور یہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیئے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ اگر کسی کو ہو گا تو وہ ان ممالک کے عوام ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اس معاملے پر تھوڑی بہت لچک دکھانی پڑے گی، ان پر کہیں نہ کہیں عوام کا پریشر آنا چاہیئے۔‘‘

بینا سرور نے بھی کم و پیش انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی خواہشات کو حکومتی سطح پر اہمیت دی جانی چاہیئے۔ ’’آپ کو اپنی سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے جو کرنا ہے وہ کریں، لیکن اس میں ان لوگوں کو آپس میں ملنے سے نہ روکیں جو آپ کے ملک کے لیے خطرہ نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کا انتخابی منشور تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیں گے، جس کی وجہ سے ان کو ووٹ ملا تھا۔ بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کا انتخابی منشور ترقی پر مبنی تھا۔ ’’انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگوں کے رہنے سہنے کے حالات بہتر کریں گے۔ پاکستان کے ساتھ دشمنی کر کے وہ لوگوں کے حالات بہتر نہیں کر سکتے۔‘‘

XS
SM
MD
LG