رسائی کے لنکس

پاکستان کے لیے امن کا پیغام لایا ہوں، بھارتی وزیر خارجہ

  • ن ہ

پاکستان کے لیے امن کا پیغام لایا ہوں، بھارتی وزیر خارجہ

پاکستان کے لیے امن کا پیغام لایا ہوں، بھارتی وزیر خارجہ

مذاکرات سے محض ایک روز قبل بھارت کے سیکرٹری داخلہ جی کے پلائی نے ایک انٹرویو میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں نہ صرف تعاون کیا بلکہ شروع سے لے کر آخر تک اس کی براہ راست نگرانی کی تھی۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے سفر میں اُن کا حالیہ دورہ ایک نیا آغاز ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پاکستانی عوام اور حکومت کے لیے بھارت کی حکومت اور عوام کی طرف سے نیک تمناؤں اور امن کا پیغام لائے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تما م تنازعات باہمی اعتماد کی بنیاداور پر امن مذاکرت سے حل کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کے بقول بھارت ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان دیکھنے کا خواہاں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ جمعرات کو اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ بات چیت میں تمام دو طرفہ امور اور اُن خدشات پر بات چیت کریں گے جن کا تعلق باہمی اعتماد کی بحالی سے ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے کے دوران بھارتی وزیر داخلہ نے ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے ایک مبینہ ملزم امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی سے امریکہ میں تفتیش کے دوران ملنے والی معلومات پاکستانی حکام کو دی تھیں اور وہ چاہیں گے کہ حالیہ مذاکرات میں پاکستانی وفد کے ارکان اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت سے بھارتی وفد کو آگاہ کریں ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد سے چند گھنٹے قبل بھارت کے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں سیکرٹری داخلہ جے کے پلائی نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ممبئی حملوں میں نہ صرف کردار ادا کیا بلکہ اس کی منصوبہ بندی اور شروع سے آخر تک دہشت گردی کی اس کارروائی کی نگرانی بھی کی۔ بھارتی حکام اب تک پاکستانی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر ان حملوں کی ذمہ داری عائد کرتے ہیں لیکن بھارت کے سیکرٹری داخلہ نے پہلی مرتبہ براہ راست پاکستان پر الزام لگایا ہے۔

ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے

ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے

بقول بھارتی سیکرٹری داخلہ پلائی کے شکاگو سے تعلق رکھنے والے امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی سے بھارتی حکام کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ سازی دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے کی تھی۔ امریکہ میں زیر حراست ڈیوڈ ہیڈلی نے اطلاعات کے مطابق لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی میں کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے یک طر فہ طور پر پاکستان کے ساتھ چار سالہ امن مذاکرات کاسلسلہ منقطع کردیا تھا اور نومبر 2008ء کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کے وزیر خارجہ پاکستان آئے ہیں۔

تاہم اس سال اپریل میں بھوٹان میں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کاعمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG