رسائی کے لنکس

پاکستان کے اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں تلخی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھی نمایاں طور پر دیکھنے میں آئی جہاں بھارت اور افغانستان کے راہنماؤں نے پاکستان کا نام لیے بغیر دہشت گردی کے معاملے پر اسے ہدف تنقید بنایا۔

تاہم پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان کو بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام تصفیہ طلب معاملات کا پرامن حل ہی خطے میں تعاون اور روابط میں پیش رفت کا واحد ذریعہ ہے۔

اتوار کو امرتسر میں ہونے والی کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ خطے میں دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ کچھ عناصر اب بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے طالبان کے ایک سینیئر راہنما کے حال میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے اس رکن کا کہنا تھا کہ اگر انھیں "پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہ ملتیں تو وہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتے تھے۔"

تاہم کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ اور بامعنی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کابل کو بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کا مشورہ بھی دیا۔

بھارت اور افغانستان یہ الزامات عائد کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنی سرزمین ان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیتا آرہا ہے، لیکن پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اپنے ہاں ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔

کانفرنس کے بعد بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان ایک عرصے سے اپنے ہاں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کارروائی کرتا آرہا ہے اور افغانستان کو درپیش حالات پر صرف پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا کسی طور بھی مناسب نہیں۔

"پاکستان اپنے تئیں دہشت گردی کے خلاف مربوط کوششیں کر رہا ہے لیکن سوال وہی ہے کہ افغانستان میں جو بھی حالات و معاملات ہیں ان میں تمام پڑوسی ریاستوں اور علاقائی ممالک کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم الزام تراشی کی بجائے ان چیزوں پر توجہ دیں جو جامع اور مربوط ہیں جن سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر صرف پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ہے تو اس سے بات نہیں بنے گی۔"

انھوں نے بتایا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کانفرنس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرنی تھی لیکن ان کے بقول میزبان ملک نے بوجوہ انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ان تینوں ممالک کو الزام تراشی کی بجائے بات چیت کے سلسلے کو بحال رکھنا چاہیے۔

"سب سے اہم چیز ہے کہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو۔۔۔تاکہ افغانستان کے معاملات میں بہتری آئے اور افغانستان کو بھی پاکستان کے ساتھ مسلسل بات کرنے کی ضرورت ہے ناکہ الزام تراشی کرے۔۔۔ افغانستان اور بھارت کی پاکستان سے بات چیت شروع ہونی چاہیے اور اسی میں خطے کی بہتری ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشیوں سے صرف ان ہی عناصر کو تقویت ملے گی جو تلخی میں اضافہ چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG