رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں گمنام قبروں کا انکشاف باعث تشویش، دفتر خارجہ


تہمینہ جنجوعہ

تہمینہ جنجوعہ

دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ بھارت کے زیر اتنظام کشمیر میں گمنا م قبروں کی موجودگی اور ان میں دفن افراد کے بارے میں انسانی حقوق کےسرکاری کمیشن کے انکشافات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کشمری رہنما بار بار اس مسئلے کی طرف توجہ دلاتے آئے ہیں اور تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ نے اُن کے موقف کی تصدیق کی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بھارت کے زیر اتنظام کشمیر میں عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے اور پاکستان کو یقین ہے کہ بھارتی حکام اُن افراد کو انصاف کے کٹہر ے میں لائیں گے جو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت نے بھی گمنام قبروں میں دو ہزار سے زائد لاشوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس معاملے کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کی نمائندہ تنظیموں نے وادی میں گزشتہ بیس سال سے بھارتی کنٹرول کے خلاف علحیدگی کی تحریک شروع کررکھی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں علیحدگی پسندوں کی سرکشی کے لیےکشمیر میں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی سکیورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عام شہریوں کو جعلی مقابلوٕں میں ہلاک کرنے کے الزامات لگاتی آئی ہیں۔ لیکن بھارتی حکام ان الزامات کی یہ کہہ کر تردید کرتے آئے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے مسلح عسکریت پسند تھے۔ بھارتی کشمیر میں عسکریت پسندوں کے حملوں اور ان افراد کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اڑسٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

تاہم گزشتہ ہفتہ جموں کشمیر ریاستی کمیشن کی رپورٹ میں گمنام قبروں میں دفن دو ہزار سے زائد لاشوں اور مدفون افراد کو گولیاں مارکر ہلاک کرنے کا انکشاف کر کے بھارتی حکام نے وادی میں ایسے جرائم کے وجود کا سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ اعتراف ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے اڑتیس دیہاتوں میں سینکڑوں انفرادی اور اجتماعی قبروں میں دو ہزار ایک سو چھپن لاشیں دفن ہیں۔

XS
SM
MD
LG