رسائی کے لنکس

کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے پرانا حل طلب معاملہ ہے جس کے باعث دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات مسلسل کشیدہ چلے آ رہے ہیں ۔ اس تنازع سے منسلک چند اہم واقعات پر ایک نظر۔

1- پاکستان اور بھارت اگست 1947 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے محض چند ہفتوں کے بعد ، ایک ایسے وقت میں جب دونوں جانب سے تباہ حال اور لٹے پٹے پناہ گزینوں کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا، اکتوبر میں کشمیر پر قبضے کے لیے جنگ میں کود پڑے۔

2-یکم جنوری 1948 میں بھارت کی جانب سے یہ معاملہ اقوام ٕمتحدہ میں اٹھائے جانے کے بعد دونوں ملکوں میں فائر بندی کی ایک عارضی لائن پر اتفاق ہوا جس میں یہ طے پایا کہ دونوں ملک اپنے فوجی دستوں کو اس لائن سے پیچھے لے جائیں گے۔ یہ دونوں آزاد ملکوں کے درمیان ہمالیائی خطے میں پہلی جنگ بندی لائن تھی ۔ سلامتی کونسل نے اپنی قرار داد میں کشمیر میں رائے شماري کرانے کے لیے پاکستان سے کہا وہ اپنے کنٹرول کے کشمیر سے فوجی نکال لے، جب کہ بھارت کو امن و امان کے قیام کے لیے کم سے کم فوجی رکھنے کی اجازت دی گئی۔ پاکستان نے اپنے فوجی انخلا کو بھارتی فوج سے مشروط کر دیا۔

3-دونوں ملکوں کے درمیان اگست 1965 میں کشمیر کے محاذ پر ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی جب پاکستانی فوجی دستے جنگ بندی لائن عبور کرکے بھارتی کنٹرول کے علاقے میں داخل ہوئے۔ بھارت نے کشمیر پر دباؤ کم کرنے کے لیے لاهور کو ہدف بناتے ہوئے بین الاقوامی سرحد پر حملہ کر دیا۔

4-جنوری 1966 میں دونوں ملکوں کے درمیان تاشقند میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت دونوں ملکوں نے زیر قبضہ متنازع علاقے سے اپنی فوجیں واپس نکال لیں۔

5-سن 1971 میں ایک بار پھر دونوں ملکوں میں کشمیر کے محاذ پر بھی جنگ چھڑ گئی جس کا نتیجہ اگلے سال جولائی میں شملہ کے مقام پر ہونے والے معاہدے کی شکل میں برآمد ہوا۔ اس معاہدے میں کشمیر کے متنازع علاقے کی جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا اور دونوں ملکوں نے کشمیر کے پرانے مسئلے کو باہمی طور پر حل کرنے پر اتفاق کیا۔

6-لائن آف کنٹرول بننے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں جاری رہیں۔

7-سن 1999 میں یہ تنازع اس وقت ایک بار پھر بھڑک اٹھا جب پاکستانی فوجی چپکے سے کار گل کے ان بلند مورچوں پر قابض ہو گئے جنہیں بھارتی فوج سردیوں میں خالی کرکے نیچے اتر جاتی تھی۔ بھارت دو مہینوں تک جاری رہنے والی شديد جھڑپوں کے بعد اپنی چوکیوں کا قبضہ واپس لینے میں کامیاب ہوگیا۔

8- اس سال 19 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع بھارتی فوجی مرکز اڑی پر عسکریت پسندوں کے حملے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو اپنی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس حملے میں گولیوں کے تبادلے اور تیل کے ایک ڈپو میں آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔ بھارتی عہدے داروں نے پاکستان پر اس حملے میں معاونت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

9-جوہری قوت رکھنے والے دونوں ہمسایہ ملکوں کی جانب سے تندو تیز بیانات کے ماحول میں 29 ستمبر کو بھارتی فوج کے عہدے داروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے لائن آف کنٹرول کی پاکستانی جانب کئی مقامات پر سرجیکل اسٹراکس کرکے متعدد دهشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہلاک کردیا۔ جب کہ پاکستان نے سرجیکل اسٹرکس کے بھارتی دعوے کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے سرحد پار سے فائرنگ اور چھوٹے ہتھیاروں سے گولہ باری کی تھی، جس کا مؤثر جواب دیا گیا۔ پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG