رسائی کے لنکس

تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: پاکستانی فوج


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے ’’اس سے ہم مکمل طور پر باخبر ہیں اور خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور اُن کے پاکستان کی سلامتی پر اثرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے اُڑی میں فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں اور بعض حلقوں کی طرف سے اس تناؤ میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ کی طرف سے پیر کو ایک بیان میں کہا گیا کہ فوج کسی بھی طرح کے بلاواسطہ یا بلواسطہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

بھارت کی طرف سے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔

بھارتی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد پیر کو وزیراعظم نریندر مودی نے ایک سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں بھارت کی طرف سے ردعمل کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا گیا۔

جب کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر قیادت پیر کو کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی حالیہ کشیدہ صورت حال پر غور کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں سلامتی کی اندرونی و بیرونی صورت حال پر غور کے علاوہ فوج کی آپریشنل تیاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے ’’اس سے ہم مکمل طور پر باخبر ہیں اور خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور اُن کے پاکستان کی سلامتی پر اثرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پیر کو بیان میں ایک بار پھر کہا کہ بھارتی کشمیر میں فوجی اڈے پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بغیر شواہد کے پاکستان پر الزامات لگانا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے اور اُن کے بقول اس کا مقصد بھارتی کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

اُدھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو کشیدگی سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

بین الاقوامی اُمور کے ماہر اور اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر عسکری طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس سے دونوں ہی ممالک کو نقصان ہو گا۔

’’پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے، بھارت کے لیے بھی ہے کہ ہم مذاکرات کا جو عمل ہے یا راستہ ہے وہ بند نا کریں۔۔۔دونوں ملکوں نیوکلئیر پاور ممالک کو حقیقت پسندانہ فیصلے کرنا پڑیں گے۔‘‘

اسلام آباد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا بھی کہنا تھا کہ الزام تراشی کی بجائے مسائل کا حل بات چیت سے نکالنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات حالیہ کچھ مہینوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والی جھڑپوں میں لگ بھگ 80 افراد کی ہلاکت ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بدلتے حالات میں دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

’’دیکھیں (مذاکرات) کے علاوہ تو کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔۔۔ اس کے علاوہ تو معاملات بگڑتے چلے جائیں گے واحد اور مناسب راستہ یہی ہے کہ گفت و شنید سے معاملات کو سمجھا جائے اور اس کو سلجھایا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ اتوار کو کشمیر کے علاقے اڑی میں ہونے والے حملے کے بعد دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان بھی رابطہ ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG