رسائی کے لنکس

وکیل ریاض اکرم چیمہ کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی سے منسلک بھارتی شخصیات سے جرح میں تاخیر خود بھارت کے لیے فائدہ مند نہیں

پاکستان کے آٹھ رکنی عدالتی کمیشن نے بدھ سے دورہِ بھارت کا آغاز کرنا تھا، لیکن روانگی سے چند گھنٹے قبل بھارتی حکام نے انھیں مطلع کیا کہ مذہبی تہوار کے سلسلے میں تعطیلات کی وجہ سے طے شدہ نظام الاوقات پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

ممبئی حملے کے الزام میں پاکستان میں زیرِ حراست ملزمان کے ایک وکیل اور کمیشن کے رکن ریاض اکرم چیمہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے خیال میں حالیہ اقدام بھارت کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔


ریاض اکرم چیمہ کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی سے منسلک بھارتی شخصیات سے جرح میں تاخیر خود بھارت کے لیے فائدہ مند نہیں کیونکہ اس سے پاکستان میں زیر حراست ملزمان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی طوالت کا شکار ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان کے عدالتی کمیشن کا دورہِ بھارت رواں ماہ کے اواخر میں متوقع ہے، تاہم نئی تاریخوں کا اعلان بھارتی اور پاکستانی حکام کے علاوہ کمیشن کی رضامندی کے بعد کیا جائے گا۔


آٹھ رکنی عدالتی کمیشن نے بھارت میں جن شخصیات سے جرح کرنی ہے اُن میں ممبئی حملے کے اہم کردار اجمل قصاب کا بیانِ حلفی ریکارڈ کرنے والی مجسٹریٹ، مرکزی تحقیقاتی افسر اور حملہ آوروں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز شامل ہیں۔

کمیشن گزشتہ برس مارچ میں بھی بھارت کا دورہ کر چکا ہے لیکن پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس کی پیش کردہ رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وکلاء نے گواہوں سے جرح نہیں کی۔

پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت سات افراد پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے، جس کی آئندہ سماعت 18 ستمبر کو ہونی ہے۔
XS
SM
MD
LG