رسائی کے لنکس

بھارتی آرمی چیف کا بیان اشتعال انگیز ہے، پاکستان


ترجمان تسنیم اسلم

ترجمان تسنیم اسلم

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری طرح سے فائر بندی کے معاہدے پر کاربند ہے اور امید ہے کہ بھارت بھی اس کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی نہیں چاہتا اور اسے امید ہے کہ بھارت اس معاملے سے متعلق قواعدو ضوابط اور معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے بھی بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات حالات میں خرابی کا باعث بنتے ہیں۔

’’مشیر (خارجہ امور و قومی سلامتی) سے بھی یہ سوال پوچھا گیا تھا انھوں نے بھی اسے افسوسناک بیان کہا۔ اشتعال انگیز ہے، بدقسمتی ہے اور جیسے کہ فوج کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ اس قسم کے بیانات اور دعوے حالات کو خراب کرتے ہیں، ہماری کوشش رہی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر امن رہے۔‘‘

بھارتی فوج کے سربراہ نے رواں ہفتے ایک بیان میں پاکستان پر لائن آف کنٹرول پر دراندازی کا الزام عائد کیا تھا۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی عارضی حدبندی پر گزشتہ سال ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے جس سے ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

تاہم گزشتہ دسمبر میں دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز نے تقریباً چودہ سال کے بعد ہونے والی براہ راست ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر فائربندی کے 2003ء کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے۔


دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری طرح سے اس معاہدے پر کاربند ہے اور امید ہے کہ بھارت بھی اس کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کا جائزہ لینے کے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی واشنگٹن جائیں گے لیکن اس بارے میں حتمی تاریخوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ ان میں دراصل پاک امریکہ تعلقات کے تمام پہلو شامل ہوتے ہیں۔

’’اس میں مختلف شعبوں سے متعلق پانچ ورکنگ گروپس ہیں، ان میں سے تین کی ملاقاتیں اور اجلاس ہو چکے ہیں جب کہ دو کے ابھی نہیں ہوئے۔ امید کی جاتی ہے کہ وزرا کی سطح پر اس ملاقات میں ان گروپس کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ علاقائی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔‘‘

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی حالیہ برسوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا لیکن وزیراعظم نواز شریف بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت بھارت اور خطے کے تمام ممالک سمیت عالمی برادری سے دوستانہ تعلقات کی خواہاں اور اس میں فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔
XS
SM
MD
LG