رسائی کے لنکس

پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی مبینہ خلاف ورزی پر بھارت سے شدید احتجاج کیا اور ان الزامات کو بھی رد کیا کہ پاکستانی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ بھارتی فوجی کی ہلاکت کا سبب بنی۔

پاکستان اور بھارت کے سرحدی کمانڈروں کی ’فلیگ میٹنگ‘ پیر کو کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر پونچھ سکیٹر میں ہوئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق بریگیڈیئر سطح کے فوجی کمانڈروں کے ان مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔

بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی مبینہ خلاف ورزی پر بھارت سے شدید احتجاج کیا اور ان الزامات کو بھی رد کیا کہ پاکستانی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ بھارتی فوجی کی ہلاکت کا سبب بنی۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستانی فوج نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے اس کے علاقے باغ سیکٹر میں سواں پترا چیک پوسٹ پر حملہ کیا جسے پسپا کر دیا گیا لیکن اس کارروائی میں حریف فوجیوں کی طرف سے فائرنگ میں ایک پاکستانی اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں اس کا ایک اہلکار مارا گیا۔

ان واقعات کے بعد دنوں ملکوں کے عسکری حکام کے درمیان رابطہ بھی ہوا لیکن صورتحال میں بہتری کی بجائے ایک روز بعد پھر کشمیر کو منقسم کرنے والی حدبندی لائن پر فائرنگ کے تبادلوں اور اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہائی کمشنرز کو اپنے اپنے دفتر خارجہ طلب کرکے ان واقعات پر احتجاج کیا تھا۔

پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ان واقعات کی اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاک بھارت سے تحقیقات کرانے کے لیے تیار ہے۔
XS
SM
MD
LG