رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کا جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ


فائل فوٹو

جوہری تنصیبات پر حملہ نا کرنے کا یہ معاہدہ یکم جنوری 1991ء کو نافذ العمل ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان فہرستوں کا تبادلہ بھی پہلی بار اس ہی روز کیا گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت نے اپنی اپنی جوہری نتصیبات اور ایک دوسرے کے ہاں قید اپنے شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملے کی ممانعت سے متعلق 1988ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کی حکومتیں ہر سال یکم جنوری کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کی پابند ہیں۔

اور اسی سلسلے میں یکم جنوری 2017ء کو معمول کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو فہرستیں فراہم کیں۔

جوہری تنصیبات پر حملہ نا کرنے کا یہ معاہدہ یکم جنوری 1991ء کو نافذ العمل ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان فہرستوں کا تبادلہ بھی پہلی بار اس ہی روز کیا گیا تھا۔

ان فہرستوں میں صرف سویلین تنصیبات بشمول جوہری بجلی گھروں اور ان کے جائے وقوع کی نشاندہی کی جاتی ہے جب کہ فوجی نوعیت کی تنصیبات اور دیگر تفصیلات کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔

اتوار کو ہی دونوں ملکوں نے اپنے ہاں قید ایک دوسرے کے شہریوں کے متعلق فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2008 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ان فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG