رسائی کے لنکس

دونوں ملکوں کے درمیان 1988ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کی حکومتیں ہر سال یکم جنوری کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کی پابند ہیں۔

پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت سے متعلق معاہدے کے تحت معمول کے مطابق نئے سال کے پہلے روز بدھ کو اپنی اپنی ’’جوہری تنصیبات‘‘کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 1988ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کی حکومتیں ہر سال یکم جنوری کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کی پابند ہیں۔

پاکستان نے اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں متعلقہ عہدیدار کے حوالے کی جب کہ بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں اپنی تنصیبات کی فہرست پاکستانی ہائی کمشنر کو پیش کی۔

سرکاری بیان میں جوہری تنصیبات کی تعداد یا دوسری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اطلاعات کے مطابق ان فہرستوں میں صرف سویلین تنصیبات بشمول جوہری بجلی گھروں اور ان کے مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے، جب کہ فوجی نوعیت کی تنصیبات اور دیگر تفصیلات کا تبادلہ نہیں کیا جاتا ہے۔

مزید برآں پاکستان اور بھارت نے اپنی اپنی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس بارے میں 21 مئی 2008ء کو طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی اپنی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اس معاہدے کا مقصد قیدیوں کو وکلائے صفائی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کو جو فہرست فراہم کی گئی اُس کے مطابق پاکستان میں کل 281 بھارتی شہری قید ہیں جن میں سے 49 عام شہری جب کہ 232 ماہی گیر ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے فراہم کردہ فہرست میں پڑوسی ملک کی جیل میں قید پاکستانیوں کی کل تعداد 396 بتائی گئی ہے جن میں سے 257 عام شہری جب کہ 139 ماہی گیر ہیں۔

برطانیہ سے 1947ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں، جب کہ مئی 1998ء میں پہلے بھارت اور پھر جواباً پاکستان نے جوہری تجربات کیے تھے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات بیشتراوقات تناؤ کا شکار رہے اور پاکستان میں مئی 2013ء کے بعد تیسری بار ملک کا وزیراعظم بننے والے نواز شریف حالیہ مہینوں میں بار ہا یہ کہہ چکے ہیں اُن کا ملک بھارت سے اچھے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کے درمیان 14 سال بعد پہلی براہ راست ملاقات ہوئی جس میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کے لیے موثر اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG