رسائی کے لنکس

بھارت کو پیاز کی برآمد پر پابندی، تاجروں کا احتجاج

  • افضل رحمن

20 دسمبر سے روزانہ بھارت اندازاً تین سو ٹن پیاز بھیجا جارہا تھا

20 دسمبر سے روزانہ بھارت اندازاً تین سو ٹن پیاز بھیجا جارہا تھا

واہگہ بارڈ کے راستے بھارت کوپیاز برآمدکرنے پر حکومت کی طرف سے فوری طور پابندی عائد کر نے کے خلاف جمعرات کو لاہور اور گوجرانوالہ کی سبزی منڈیوں کے تاجروں نے احتجاجاً کاروبار بند کر دیا ہے۔

سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں سیلا ب کہ وجہ سے پہلے ہی سبزیوں کی قیمتیں معمول سے زیادہ تھیں اور بھارت کوپیاز کی برآمدکے بعد اندرون ملک اس کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اضافے کے اس رُحجان کو روکنے کے لیے عارضی طور پر سڑک کے راستے پیازکی بھارت کو برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے۔

سمندر کے راستے کراچی سے بھارت کو پیاز برآمد کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ سبزی منڈی کے تاجروں کے نمائندے محمد امین بھٹی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 20 دسمبر سے روزانہ بھارت اندازاً تین سو ٹن پیاز بھیجا جارہا تھا اور حکومت کی طرف سے اچانک پابندی کے سبب اب یہ سلسلہ رک گیا ۔

اُنھوں نے بتایا کہ پیاز سے لدے چارسو ٹرک واہگہ بارڈ پر کھڑے ہیں۔ محمد امین بھٹی نے کہا کہ حکومت کو پاکستانی تاجروں کے مفاد کا بھی سوچنا چاہیے اور یہ پابندی اُٹھا لینی چاہیے بصور ت دیگر اُن کے بقول اُن کا یہ احتجاج جاری رہے گا۔

واہگہ کے راستے زیادہ تر پاکستان ہی بھارت سے سبزیاں درآمد کرتا رہا ہے اور گذشتہ دس برسوں میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ واہگہ کے زمینی راستے سے پاکستان سے پیاز برآمد کیا جارہاہے۔

اطلاعا ت کے مطابق بھار ت میں پیاز کی قلت بحرانی شکل اختیار کر چکی ہے اوریہ معاملہ وزیراعظم منموہن سنگھ کی حکومت کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG