رسائی کے لنکس

بھارت پاک دوستی کے لئے، تمنائے امن کا آغاز

  • رشیدالدین

بھارت پاک دوستی کے لئے، تمنائے امن کا آغاز

بھارت پاک دوستی کے لئے، تمنائے امن کا آغاز

بھارت کے قومی انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اور پاکستان کے جنگ گروپ نے باہم اشتراک سے امن مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ امن کی آشا عنوان کے تحت اس بھارت پاک امن پراجیکٹ کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کو تہذیب، تجارت اور ادب جیسے شعبوں میں قریب لانے کی کوشش کی جائے گی۔


سال 2010ء کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں نئے سال سے کئی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے امن پسندوں نے دوستی کے استحکام کے لئے عملی اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے سال میں اس نئی تحریک کو بھارت اور پاکستان کے دو بڑے میڈیا گروپوں نے شروع کیا ہے۔،امن کی آشا،کے عنوان سے بھارت پاک امن پراجیکٹ کا16 جنوری سے آغاز ہوگا۔ ٹائمز آف انڈیا اور پاکستان کے جنگ گروپ نے مشترکہ طور پر یہ پہل کی ہے۔ امن کی آشا یعنی امید کے تحت تہذیب،ثقافت،تجارت اورادب و موسیقی کا تبادلہ ہوگا۔ اس امن تحریک کے ذریعے 62 برسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود سرحدوں کو پاٹنے کی کوشش کی جائے گی۔ تہذیب،تجارت اور عوام کے درمیان رابطہ جیسے تین مرحلوں میں اس مہم پر عمل آوری کی جائے گی۔

پہلے مرحلہ میں دونوں ملکوں کے فنکاروں پر مشتمل میوزک فیسٹول کا آغاز 16 جنوری سے بھارت میں ہوگا۔ 24 جنوری تک جاری رہنے والے اس فیسٹول میں دونوں ملکوں کے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

16 جنوری کو نئی دہلی میں بھارتی فنکار کیلاش کھیر اور پاکستان کے راحت فتح علی خان اپنے فن کا جادو جگایئں گے۔ 17 جنوری کو ممبئی میں شوبھا مدگل اورعابدہ پروین،19 جنوری کولکتہ میں ایفوریا اور سٹرنگز میوزک گروپ،22 جنوری حیدرآباد میں بال سنگرز اور عارف لوہار،23 جنوری بینگلور میں ہری ہرن اور غلام علی،اور 24 جنوری کو احمدآباد مٰیں وڈال برادرز اور ابو محمد اور ان کے گروپ کے پروگرام ہوں گے۔

لٹریری فیسٹول کے تحت اواخر جنوری اور اوایل فروری میں ممبئی، دہلی، بینگلور، لکھنو اور پونے میں مختلف پروگرام ترتیب دیے جایئں گے۔ دونوں ملکوں میں تجارت کو فروغ دینے کی غرض سے ماہ فروری میں کراچی میں ٹریڈ میٹ کے اہتمام کا فیصلہ کیا گیا۔ امن تحریک کے تحت ایک البم تیار کیا جارہا ہے جس میں بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن مشہور گیت کار گلزار کا گیت گایئں گے جس کی ریکارڈنگ مکمل ہوچکی ہے۔ اس گیت میں کچھ اس طرح کہا گیا ہے۔

،،دکھائی دیتے ہیں دور تک آج بھی سائے کوئی
مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی،،۔

اگرچہ راجیو گاندھی کے دور میں امیتابھ کے اس بیان پر پاکستان میں بہت لے دے ہوئی تھی کہ ہم ہندوستان کے دشمنوں کو نانی یاد دلا دیں گے، امیتابھ کا کہنا ہے کہ ان کا پاکستان سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کی ماں پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ جب امیتابھ دو سال کے تھے تو ان کی ماں انہیں اپنے پیدائشی مقام لائیل پور لے گئ تھیں جس کا نام اب فیصل آباد ہے۔

امیتابھ نے کہا کہ میں آج بھی ماں کے دوستوں اور ان کے خاندانوں سے رابطے میں ہوں۔ جب میری بیٹی کی شادی ہوئی تو پاکستان سے روایتی شادی کا جوڑا بھیجا گیا۔ ان یادوں اور رشتوں کو میں کبھی بھلا نہیں پاؤں گا۔ امیتابھ نے امید ظاہر کی کہ امن تحریک سے دونوں ملکوں کی دوستی مستحکم ہوگی کیونکہ دونوں کی تہذیب،غذا،رہن سہن اور زبان ایک ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG