رسائی کے لنکس

بھارت کو تجارت کے لیے انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دینے کے پاکستانی حکومت کے اعلان کو بالعموم دونوں ممالک میں سراہا جا رہا ہے۔ لیکن بعض مقامی صنعتوں بالخصوص ادویہ ساز کمپنیاں اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ اگر بھارت سے دوائیاں درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تو اس سے مقامی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں دوا ساز کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ محمد اسد کا کہنا ہے کہ ملک میں 570 سے زائد فیکٹریاں کام کر رہی ہیں اور ان کے بقول اس صنعت سے بلواسطہ اور بلاواسطہ لگ بھگ چالیس لاکھ افراد وابستہ ہیں۔

’’ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر انڈیا سے ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارہ صحت) اور یورپی یونین کی منظور شدہ (ادویات) درآمد کی جائیں یا وہ ادویات جو پاکستان میں نہیں بن رہی ہیں اگر وہ بھارت سے درآمد کر لی جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہمارے تحفظات جنرک (غیر رجسٹرڈ) ادویات کے بارے میں ہیں۔‘‘

محمد اسد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی دوا ساز کمپنیاں خام مال مختلف ممالک سے درآمد کرتی ہیں اور اگر بھارت میں تیار کی جانے والی ادویات ملک میں آنا شروع ہو گئیں تو مقامی صنعت قیمت میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی جس سے پاکستان میں اس شعبے سے وابستہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں عمومی تاثر یہ ہے کہ بھارت سے ادویات کی درآمد سے مقامی صارفین کو فائدہ ہو گا لیکن محمد اسد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

’’پبلک اس سے بالکل متاثر نہیں ہو گی، کیونکہ عوام کو اب بھی بڑی اچھی قیمت پر اعلیٰ معیار کی ادویات مل رہی ہیں۔ بھارت سے (ادویات کی درآمد) سے عام آدمی کو فائدہ نہیں ہو گا آپ (پاکستان) کی صنعت متاثر ہو گی۔‘‘

پاکستانی دوا ساز کمپنیوں کی تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ وزارت کے عہدیداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور مقامی صنعت کے تحفظات سے بھی انھیں آگاہ کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان بار ہا یہ واضح کر چکی ہے کہ بھارت کو تجارت کے انتہائی مراعات یافتہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ دینے کے اعلان کے بعد مقامی صنعت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیموں سے مسلسل مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے نامور صنعت کاروں کی لاہور میں دو روزہ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے قابل عمل تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔

پاکستان بھارت سے غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جب کہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان درآمد کی جانے والی مصنوعات کی منفی فہرست ختم کر دے۔

وزارت صنعت و تجارت کے مطابق منفی فہرست میں اشیاء کی تعداد محض 1029 ہے جن کو بھارت سے درآمد نہیں کیا جا سکتا اور توقع ہے کہ ’منفی فہرست‘ اس سال 31 دسمبر تک ختم کر دی جائے گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG