رسائی کے لنکس

بھارتی ہم منصب سے ملاقات کا منتظر ہوں: نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششوں کو پھر سے شروع کیا جاسکے۔

پاكستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ان كے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ كے درمیان ملاقات اتوار كو ہوگی جس میں باہمی تعلقات سمیت امن مذاكرات بحال كرنے پر بات چیت كی جائے گی۔

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششوں کو پھر سے شروع کیا جاسکے۔

ان کا بیان بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی اس بات کے ردعمل میں تھا جس میں انھوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی رہنما سے ملاقات کا کہا تھا۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے بدھ كو یورپین كونسل كے صدر جناب ہرمن وین رومپے سے ملاقات كی جس میں باہمی تعلقات پر گفتگو ہوئی۔

ملینیم ڈویلوپمنٹ گولزپر سمٹ میں بات كرتے ہوئے نواز شریف نے طے شدہ مقاصد حاصل كرنے كے لیے عالمی كوششوں كو جاری ركھنے پر زور دیا اور كہا كہ ان كی حكومت نے پاكستان میں غربت ختم كرنے، تعلیم اور صحت كے شعبوں میں اخراجات میں اضافہ كیا ہے۔

بلوچستان میں آنے والے زلزلے پر بات كرتے ہوئے وزیراعظم نے كہا كہ پاكستان قدرتی آفات كی زد میں آتا رہتا ہے۔ اس لیے پاكستان نے دس سالہ نیشنل ڈزاسٹڑ رسک ریڈكشن پالیسی كا آغاز كیا ہے۔

وزیراعظم نے پاكستان میں تعلیم كے موضوع پر ایک اجلاس میں بھی شرکت کی جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم اور اقوام متحدہ كے خصوصی مشیر گورڈن براون اور ملالہ یوسف زئی كے ساتھ اقوام متحدہ كی تعلیمی ایجنسیوں كے سربراہان بھی شریک تھے۔
پاکستانی وزیراعظم نے یہاں خطاب كرتے ہوئےكہا كہ ان كی حكومت تعلیم كو عام كرنے كے لیے جنگی بنیادوں پر كام كرنے كا
ارادہ ركھتی ہے۔


وزیراعظم نواز شریف اور گورڈن برائون

وزیراعظم نواز شریف اور گورڈن برائون


"میرے ملک كی آدھی سے زیادہ آبادی كی عمر پچیس سال سے كم ہے۔ پڑھی لكھی اور ہنر مند نوجوان نسل ترقی اور خوشحالی كی سفر كو تیز كر سكتی ہے۔ لہذا تعلیم ہماری حكومت كی سب سے پہلی ترجیح ہے"۔

وزیر اعظم جمعرات كو امریكہ كے وزیر خارجہ جان كیری سے بھی ملاقات کریں گے۔ پاكستانی وزارت خارجہ كے ترجمان اعزاز چوہدری نے تفصیلات بتاتے ہوئے كہا كہ اس ملاقات میں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ كے علاوہ خطے كی صورتِ حال پر بات ہو گی۔

" سیكرٹری كیری نے اپنے حالیہ دورہ پاكستان میں پانچ وركنگ گروپس كو دوبارہ موثر كر دیا تھا جنہوں نے پہلے ہی كام شروع كر دیا ہےجبكہ چھ مہینے میں وزارتی سطح كے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا آغاز ہو جائے گا"۔

ترجمان نے مزید كہا كہ اس میٹنگ میں افغانستان كے متعلق تمام معاملات پر بات كی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG