رسائی کے لنکس

سزا پوری کرنے والے تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ


پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

ہفتہ کو جموں شہر کی جیل میں قید 42 سالہ پاکستانی شوکت علی نے حکام کے مطابق ایک کپڑے کا پھندا بنا کر کھڑکی کی سلاخوں سے خود کو لٹکا کر خودکشی کر لی تھی۔

پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں قید ایسے پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دے جو اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے یہ مطالبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جیل میں ایک پاکستانی قیدی کی ہلاکت کے بعد کیا ہے۔

ہفتہ کو جموں شہر کی جیل میں قید 42 سالہ پاکستانی شوکت علی نے حکام کے مطابق ایک کپڑے کا پھندا بنا کر کھڑکی کی سلاخوں سے خود کو لٹکا کر خودکشی کر لی تھی۔

پاکستان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا تھا جب کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سلمان بشیرنے بھارتی حکام سے اس واقعے کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیدیوں پر بھارتی حکام مبینہ طور پر ایسا تشدد کرتے ہیں کہ وہ یا تو اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں یا پھر خود کشی کر لیتے ہیں۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق شوکت علی کو 2011ء میں دوسری مرتبہ غیر قانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

شوکت علی کا تعلق پاکستان کے علاقے سیالکوٹ سے تھا اور بھارتی حکام کے بقول قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس کی لاش پاکستانی حکام کے حوالے کر دی جائے گی۔

دونوں ملکوں کی جیلوں میں ایک دوسرے کے سینکڑوں قیدی موجود ہیں جن کی فہرستوں کے تبادلے کے علاوہ حالیہ برسوں میں ان کے مقدمات سے متعلق معلومات اور ان کی قانونی مدد کرنے کے لیے ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا۔

پاکستان کی طرف سے گزشتہ سال جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں اس کے 496 جب کہ اس کے ہاں 482 بھارتی قید ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان قیدیوں کے معاملے پر گزشتہ سال ایک تازہ کشیدگی نے اس وقت جنم لیا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 20 سال سے زائد عرصے سے قید مبینہ بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ پر بعض قیدیوں نے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کر دیا جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد بھارتی کشمیر میں کوٹ بھلوال جیل میں قید پاکستانی شہری ثناء اللہ پر بھی وہاں کے کچھ قیدیوں نے جان لیوا حملہ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG