رسائی کے لنکس

بھارت کے ساتھ 'معاملات' بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے لیے ہر قسم کے اقدامات بھی کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے جب کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

جنوبی ایشیا کی دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران تعلقات میں شدید تناؤ دیکھا جارہا ہے اور اسی باعث گذشتہ ماہ کھٹمنڈو میں ہونے والے علاقائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان باضابطہ ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔

جمعہ کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے پہلے بھی کوششیں کی جاتی رہیں اور اب بھی کی جا رہی ہیں۔

"افغانستان کے ساتھ اپنے معاملات کو بہتر بنا رہے ہیں ایک وقت آئے گا کہ پشاور سے کابل موٹر وے بنے گی اور ہم ہندوستان کے ساتھ اپنے معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ معاملات کو بہتر انداز میں چلاتے رہیں گے۔ ہم دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہر قسم کا اقدام کر رہے ہیں۔"

متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی سکیورٹی فورسز کے درمیان حالیہ مہینوں میں تواتر سے فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوتا رہا اور دونوں ملک فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے۔

پاکستان بھارت کے ان الزامات کو بھی مسترد کر چکا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کر کے بھارت میں درپردہ جنگ کر رہا ہے۔

بھارتی عہدیداروں کی طرف سے حالیہ دنوں میں یہ بیانات سامنے آچکے ہیں کہ وہ بھی پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول اس کے لیے پہلے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ توانائی کے نئے منصوبوں پر ہونے والے کام سے نہ صرف اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا بلکہ عوام کو سستی بجلی بھی فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر انھوں نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں دو روپے 32 پیسے کمی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ آئندہ ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مزید کمی کی امید ہے۔

حکومت پہلے ہی دو ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی کر چکی ہے لیکن تاحال اس کمی کے خاطر خواہ نتائج نچلی سطح تک منتقل ہوتے دکھائی نہیں دیتے اور دیگر اشیائے ضروری کی قیمتوں بشمول پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں معمولی کمی ہی ہو سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG