رسائی کے لنکس

بھارت سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں: نواز شریف


بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ اہم ہے کہ خطے میں عملی طور پر امن کے قیام کے لیے اپنے تمام تصفیہ طلب معاملات بشمول مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت ایک اہم پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ اسلام آباد برابری اور باہمی احترام کی سطح پر معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔

یہ بات اُنھوں نے بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط سے بدھ کو ملاقات میں کہی۔ ہائی کمشنر عبدالباسط نے وزیراعظم کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات سے متعلق بریفنگ دی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ اہم ہے کہ خطے میں عملی طور پر امن کے قیام کے لیے اپنے تمام تصفیہ طلب معاملات بشمول مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔

پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں جب کہ دونوں کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات گزشتہ سال 25 اگست کو ہونا تھے، جنہیں بھارت نے منسوخ کر دیا۔

بھارت کی طرف سے مذاکرات کی منسوخی کی وجہ بات چیت سے قبل نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات تھی۔ لیکن پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات سے قبل اس طرح کی ملاقات ماضی میں معمول کا حصہ رہی ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات نا گزیر ہیں۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بغیر خطے میں ترقی اور خوشحالی کا حصول ممکن نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی رواں ماہ اپنے دورہ پاکستان میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی راہ تلاش کرنی چاہیے اور امریکہ بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں ان میں مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

اس تازہ تناؤ کی وجہ سرحد اور متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرحد کے آر پار سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے پے در پے واقعات ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتیں فائربندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے حل طلب مسائل پر بات چیت کے خواہاں ہیں لیکن دونوں ہی اس امر پر پیش رفت کے لیے ایک دوسرے کی طرف سے پہل کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG