رسائی کے لنکس

بھارت نے اس گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ کلبھوشن بھارت کا شہری اور بحریہ کا سابق ملازم تو ہے مگر اس کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں بظاہر کمی کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں اور آئے روز دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نئے و پرانے مسائل پر بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔

پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ زیر حراست مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں، جنہیں بعد میں ایک دستاویز کی صورت میں اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مارچ کے اواخر میں پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا ہے، جو بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور کراچی میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

بھارت نے اس گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ کلبھوشن بھارت کا شہری اور بحریہ کا سابق ملازم تو ہے مگر اس کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

بھارت نے کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پاکستان کی طرف سے تاحال سفارتی رسائی نا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اُسے کلبھوشن یادیو سے کئی اہم معلومات ملی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان کو ایسے شواہد بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرنے ہوں گے جو ناقابل تردید ہوں۔

’’بین الاقوامی برادری اُس وقت تک مطمئن نہیں ہو گی جب تک کہ آپ بین الاقوامی برادری کے سامنے ٹھوس شواہد نہیں رکھیں گے۔۔۔ اس لیے بار بار یہ بیانات آتے ہیں کہ ہم شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، ایسے شواہد جو عالمی سطح پر قابل قبول ہوں۔‘‘

طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کی راہ ترک کرتے ہوئے، تعلقات میں بہتری کے لیے کوشش کرنی چاہیئے۔

دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران اُن کے بقول بھارتی فورسز کی فائرنگ میں پاکستانی کشمیر میں 45 عام شہری ہلاک ہوئے۔

بھارت کی طرف سے بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان فورسز کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ اس کے ہاں عام شہریوں کے جانی نقصان کا سبب بنی۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ رواں سال ستمبر کے وسط میں بھارتی کشمیر میں اوڑی کے علاقے میں ایک فوجی ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ہوا۔

اس حالیہ کشیدگی اور فائرنگ و گولہ باری کے تبادلے میں جہاں دونوں جانب فوجیوں اور عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا، وہیں بڑی تعداد میں لوگوں کو سرحدی علاقوں سے نقل مکانی بھی کرنی پڑی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، لیکن جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو ’ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری‘ پر فائرنگ کے تبادلے کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں اور دونوں ہی ملک فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر بھی تعلقات میں تناؤ آیا ہے اور حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور بھارت میں تعینات ایک دوسرے کے ملکوں کے سفارتی عملے کے کئی اراکین کو اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر جانا پڑا۔

XS
SM
MD
LG