رسائی کے لنکس

’ایل او سی‘ پر کشیدگی، پاکستانی کشمیر کے بعض علاقوں سے نقل مکانی

  • روشن مغل

حالیہ مہینوں میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

کشمیر کو تقسیم کر نے والی حد بندی لائن پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کئی روز سے جاری فائرنگ و گولہ باری کے تبادلوں کے باعث کئی سرحدی علاقوں میں مقیم لوگ محفوظ مقامات میں پناہ لے رہے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے قریب واقع متعدد دیہات گولہ باری کی زد میں ہیں جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے داتوٹ، لنجوٹ اور ڈبسی ناڑ سمیت متعدد دیہاتوں کے رہائشی اُن لوگوں میں شامل ہیں جو مجبوراً محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ دیہات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اضلاع حویلی اور نکیال سیکٹر میں واقع ہیں۔

حکام کے مطابق گولہ باری سے متاثرہ علاقوں میں قائم تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔

گولہ باری سے متاثرہ حویلی کے سرحدی علاقے کیرنی مندھار کے رہاشی چوہدری جمالدین نے صورت حال کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتایا۔

’’ادھر بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی ہے۔ یہ سارا علاقہ فائرنگ کی زد میں ہے۔ اگر دن کو فائرنگ نہیں تو رات کو ہو جاتی ہے۔ تین زخمی ہسپتال میں ہیں اور یہاں کی دو لڑکیاں شہید ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں کے حساب سے مال مویشی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہاں کیرنی اور مندھار کے ملحقہ علاقوں کے چودہ سکول فائرنگ کی وجہ سے بند ہیں۔‘‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیر خوراک چوہدری جاوید بُڈھانوی کا تعلق گولہ بای سے متاثرہ علاقے نکیال سے ہے۔ انہو ں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گولہ باری کی وجہ سے لوگوں نے لائن آف کنٹرول کے قریبی دیہات سے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔

’’لوگوں نے نکلنا شروع کر دیا ہے۔ (یہاں) چار شہید ہوئے ہیں اور بیس زخمی ہیں۔ ابھی گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں مکمل اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ جو اسکول لائن آف کنٹرول کی طرف تھے وہ تو بند ہیں کل سے۔ جو ان کے علاوہ سکول ہیں وہ چل رہے ہیں ابھی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ گولہ باری کی زد میں آنے والی چار یونین کونسلوں کی آبادی ساٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ یہاں سکولوں کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔

نکیال اور حویلی کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع دیگر علاقوں میں تاحال صورت حال پُرامن ہے۔ چکوٹھی اور تیتری نوٹ سے بس اور ٹرک سروس بھی جاری ہے جبکہ وادی نیلم اور لیپہ میں بھی صورت حال پرامن ہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ و گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اس ہفتے نئی دہلی میں ہونے جا رہی ہے جس میں سرحد پر فائرنگ اور دہشتگردی کے علاوہ دیگر معاملات زیرغور آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG