رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیرمیں آبی منصوبے پاکستانی ماہرین کے لیے باعث تشویش

  • حسن سید

بھارتی کشمیرمیں آبی منصوبے پاکستانی ماہرین کے لیے باعث تشویش

بھارتی کشمیرمیں آبی منصوبے پاکستانی ماہرین کے لیے باعث تشویش

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال بھارت کے ساتھ پانی کے تنازع کا ذمےدار کسی حد تک خود پاکستانی حکومت کو بھی سمجھتے ہیں۔ ’’بدقسمتی سے ہمارے ہاں اہم تکنیکی عہدوں پر غیر تکنیکی افراد فائز کیے جاتے رہے جن میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ تکنیکی میدان میں اپنا مقدمہ لڑ سکتے اور اپنے ملک کے تحفظات کے بارے میں دنیا کو قائل کر سکتے۔‘‘

پاکستانی ماہرین نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی سے جاری بعض منصوبے پاکستان کو مستقبل میں اس کے حصے کے پانی سے محروم کر دیں گے جس سےملک کےزرعی شبعے کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔

جبکہ آزاد بھارتی تجزیہ کار اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے مطابق پاکستان کی تشویش بے بنیاد اور محض غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پاکستانی انجینئرز سرکاری و نجی اداروں کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ انجینئروں پر مشتمل ایک غیرسرکاری تنظیم ہے جس کے سربراہ انجینئر امجد حسین ملک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں دریائے چناب پر تقریباً اڑھائی سوایسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو ان کے بقول1960 کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ منصوبے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے جن کی معاہدہ اجازت نہیں دیتا۔

انجینئر امجد ملک اور احسن اقبال

انجینئر امجد ملک اور احسن اقبال

امجد حسین ملک کا کہنا ہے کہ چھوٹے اوردرمیانے درجے کےان منصوبوں میں سے کچھ پر کام شروع ہو چکا ہےاور کچھ فی لحال کاغذوں میں ہیں۔’’ اگریہ سب پایہ تکمیل تک پہنچ گئے توبھارت پاکستان کے حصے کے دریائی پانی کا بہاؤ اس حد تک کم کرسکتا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے پانی خریدنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے‘‘۔

لیکن نئی دہلی کے بھارتی انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز اینڈ انالیسس کی محقق سمروتی پٹنائک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ماہرین کے خدشات کو بےبنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں جن آبی منصوبوں پر کام کر رہا ہے وہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔

سمروتی کا کہناہے کہ اکثر پاکستانی تجزیہ کاروں کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے وہ ذرائع ابلاغ کی غیر مستند اطلاعات پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کی رائے میں اگر پاکستانی حکومت کو کسی بھی منصوبے پر اعتراض ہے تو اس کے لیے انڈس واٹر کمیشن کا پلیٹ فارم موجود ہے جس کے ذریعے بھارت پاکستان کے تمام تحفظات دور کرسکتا ہے۔

’’اصل مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود دیرینہ عدم اعتماد اور بد گمانی ہے جو چھوٹے سے چھوٹے معاملے کو بھی تنازع بنا دیتا ہے اور ایک ایسے وقت پر جب سرکاری سطح پر دو طرفہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں یہ غلط فہمیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔‘‘

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال بھارت کے ساتھ پانی کے تنازع کا ذمےدار کسی حد تک خود پاکستانی حکومت کو بھی سمجھتے ہیں۔ ’’بدقسمتی سے ہمارے ہاں اہم تکنیکی عہدوں پر غیر تکنیکی افراد فائز کیے جاتے رہے جن میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ تکنیکی میدان میں اپنا مقدمہ لڑ سکتے اور اپنے ملک کے تحفظات کے بارے میں دنیا کو قائل کر سکتے۔‘‘

XS
SM
MD
LG