رسائی کے لنکس

بھارت اپنی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر فائرنگ سے باز رکھے: پاکستان


بھارتی سکیورٹی فورسز (فائل فوٹو)

بھارتی سکیورٹی فورسز (فائل فوٹو)

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ورکنگ باؤنڈری پر تعینات چناب رینجرز کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر بھارتی فورسز پر فائربندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ورکنگ باؤنڈری پر چارواہ سیکٹر میں ایک پاکستانی گاؤں پر فائرنگ کی گئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ورکنگ باؤنڈری پر تعینات چناب رینجرز کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی فورسز کی جوابی فائرنگ کے بعد سرحد پار سے گولیاں چلنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔

بھارت کی طرف سے پاکستانی فورسز کے اس تازہ دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک روز قبل بھی پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ متنازع علاقے کشمیر میں سرحد پار سے بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری ہلاک ہو گیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بھارت سے اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرحدی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے سے باز رکھے۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحد اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے ایسے واقعات ماضی میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ایک سال میں ان میں قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی ان دونوں ایٹمی قوتوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ پایا جاتا ہے۔

دونوں ملک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام عائد کرتے ہیں۔

فائربندی کی خلاف ورزی کے یہ تازہ واقعات ایک ایسے وقت رونما ہوئے ہیں جب دو روز قبل ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے بتایا تھا کہ جلد ہی نئے بھارتی سیکرٹری خارجہ سارک ممالک کا دورہ کریں گے اور اس دوران وہ پاکستان بھی آئیں گے۔

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے دورہ پاکستان میں تمام دوطرفہ تصفیہ طلب امور پر بات چیت کی جائے گی۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سرحد پر فورسز کی فائرنگ کے واقعات ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل ہی معلوم ہوتے ہیں اور بھارتی سیکرٹری خارجہ کی پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد ہی بھارت کی پاکستان سے متعلق نئی پالیسی واضح ہو سکے گی۔

’’جب تک دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت لائن آف کنڑول پر صورت حال کو روکتی نہیں ہے جو نئی پالیسی ہے وہ اپنے لیے راستہ نہیں بنائے گی۔ اس لیے یہ (پالیسی کی) تبدیلی کا وقت ہے۔ پرانی پالیسی چل رہی ہے اور نئی پالیسی کے اشارے آپ کو مل رہے ہیں نئی پالیسی ابھی شروع نہیں ہوئی اس لیے آپ کو یہ ٹکراؤ نظر آ رہا ہے۔‘‘

دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ تنازعات کا بامعنی مذاکرات کے ذریعے پرامن حل چاہتے ہیں لیکن دونوں ہی اس میں دوسری جانب سے پہل کے منتظر ہیں۔

XS
SM
MD
LG