رسائی کے لنکس

اعلٰی سفارتی رابطے کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے: پاکستان


سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری

سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری

پاکستان سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کی اپنی بھارتی ہم منصب سوجاتھا سنگھ سے ٹیلی فوں پر بات چیت میں یہ طے پایا کہ دونوں کے درمیان اسلام آباد میں 25 اگست مذاکرات ہوں گے۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی بھارتی ہم منصب سوجاتھا سنگھ سے آئندہ ماہ ہونے والی ملاقات کا مقصد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا، تعلقات میں بہتری اور تعاون کو وسعت دینا ہے۔

دونوں ممالک سیکرٹری خارجہ کے درمیان بدھ کو ٹیلی فوں پر بات چیت میں یہ طے پایا کہ وہ اسلام آباد میں 25 اگست کو ملیں گے۔

اعزاز چوہدری کا جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ملاقات میں ہی جامع مذاکرات سے متعلق فریم ورک طے کیا جائے گا۔

’’یہ بھی ہماری خواہش ہو گی کہ ہم ان شعبوں میں مل کام کریں جن میں ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تنازعات اور اختلافی امور پر ہم اپنے اختلافات دور کریں۔‘‘

نومبر 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد نئی دہلی نے اسلام آباد سے جامع مذاکرات معلطل کر دیے تھے۔ بعد میں دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والے بات چیت کے عمل کا دائرہ کار محدود رکھا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان ملاقات پر اتفاق، مئی میں بھارتی وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی میں ہونے والے مذاکرات میں ہوا تھا۔

بھارت کے ایک سینئیر صحافی سنتوش بھارتیہ کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ علاقائی و عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دنوں ملکوں کو تعلقات کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہیں۔

’’دونوں وزیراعظم کم سے کم دو گھنٹے کسی کی موجودگی کے بغیر کمرہ بند کرکے آپس میں بیٹھیں اور بات چیت کریں اور ان امور کی نشاندہی کرین جن پر اگلے چھ ماہ میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کی حکومت کو کسی قسم کی سیاسی دشواریوں کا سامنا نہیں اس لیے ’’ان کا تاریخ میں نام ہو سکتا ہے اگر پاکستان کی طرف وہ چار قدم آگے بڑھیں۔‘‘

پاکستانی سیکٹری خارجہ نے بتایا کہ بدھ کو ہونے والی بھارتی ہم منصب سے بات چیت میں کشمیر میں سرحد پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات بھی زیر بحث آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بارے میں دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان رابطوں کے نظام کو فعال بنانے کے لیے تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے بات چیت کو تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG