رسائی کے لنکس

افغان حکومت عسکریت پسندوں کو دراندازی سے روکے، رحمٰن ملک

  • ب

طالبان

طالبان

افغانستان کے سرحدی صوبہ نورستان سے ہزاروں کی تعداد میں شدت پسند مبینہ طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہو کر سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ یہ الزام وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں سینٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران لگایا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ان میں سے 1,076 جنگجوؤں کو گرفتار بھی کیاہے اور ان میں ازبک، تاجک، عرب اور افغان عسکریت پسند شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بھاری تعداد میں اسلحہ اورشدت پسندوں کی دراندازی پر افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا گیا ہے جب کہ یہ معاملہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے حالیہ اجلاس میں بھی اٹھایا گیا ۔

واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے دور دراز سنگلاخ پہاڑیوں پر مشتمل نورستان صوبہ میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کر رکھا ہے ۔ گذشتہ سال کے اواخر میں اتحادی افواج نے افغانستان کے اس سرحدی صوبے میں دو چوکیاں یہ کہہ کر خالی کر دی تھیں کہ وہ اپنی توجہ آبادی والے علاقوں پر مرکوز رکھنا چاہتی ہیں۔

چوکیوں کے خالی ہونے کے کچھ عرصے بعد طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ امریکی اسلحہ سے لیس ان چوکیوں پر قابض دکھائی دیے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ گولہ بارود انہیں ان چوکیوں سے ملا تھا۔ غیر ملکی افواج کا کہنا تھا کہ چوکیاں خالی کرتے وقت سکیورٹی فورسز تمام حساس آلات اور اشیا اپنے ساتھ لے آئے تھے۔

XS
SM
MD
LG