رسائی کے لنکس

بہتر آگاہی کے ذریعے دیسی ساختہ بموں سے تحفظ ممکن

  • یاسر منصوری

بہتر آگاہی کے ذریعے دیسی ساختہ بموں سے تحفظ ممکن

بہتر آگاہی کے ذریعے دیسی ساختہ بموں سے تحفظ ممکن

پولیس اور غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کر کے دیسی ساختہ بموں سے تحفظ میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

لوگوں کو دیسی ساختہ بم یا آئی ای ڈی اور ایسے گولہ بارود جو پھٹ نا سکا ہوا کے بارے میں آگاہی دینے سے متعلق پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں صوبہ خیبر پختون خواہ پولیس کے اعلیٰ افسر شفقت ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں آئی ای ڈی عسکریت پسندوں کا اہم ہتھیار بن چکا ہے کیوں کہ یہ نسبتاً آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے اور اس کے استعمال سے ہونے والے نقصانات دیگر اسلحے سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران صرف اُن کے صوبے میں مختلف اہداف پر دیسی ساختہ بموں کے 3,500 سے زائد حملے ہوئے ہیں۔ ’’صرف رواں سال میں اب تک 1,100 واقعات ہو چکے ہیں۔‘‘

شفقت ملک کے بقول سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاک افغان سرحد کی نگرانی میں اضافے کے باعث افغانستان سے اسلحے کی ترسیل میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد شدت پسند عمومی طور پر دستیاب دھماکا خیز کیمیائی مواد، جیسا کہ کھاد میں موجود مادے ایمونیم نائٹریٹ، کا استعمال کرتے ہوئے مقامی طور پر بم تیار کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ای ڈیز کے خلاف جامع حکمت عملی بھی وضع کی ہے جس کے تحت ایمونیم نائٹریٹ اور دیگر خطرناک کیمیائی مواد کی تیاری، ترسیل اور خرید و فروخت کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔

شفقت ملک کا کہنا تھا کہ شورش زدہ علاقوں میں دیسی ساختہ بموں سے محفوظ رہنے کا سب سے بہترین طریقہ وہاں کے لوگوں میں ان ہتھیاروں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے۔

پاکستانی حکومت امریکہ کے اشتراک سے عوام میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے مصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG