رسائی کے لنکس

پاکستان فوج کے مطابق اس علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر کے یہاں اضافی دستے تعینات کیے جائیں گے تاکہ دہشت گرد اس علاقے کو سرحد آر پار آمد و رفت کے لیے استعمال نا کر سکیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبرایجنسی کی وادی راجگال میں پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ہے اور پیر کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کی کارروائی میں ’’40 دہشت گرد‘‘ مارے جا چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اب تک کی زمینی و فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے 43 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے جب کہ سکیورٹی فورسز نے وادی راجگال میں اہم پہاڑی چوٹیوں اور دروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

اس قبائلی علاقے میں قائم مورچوں کی تلاشی کے دوران گزشتہ ہفتے بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو فوجی بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

جس علاقے میں یہ فوجی آپریشن جاری ہے، وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں اس لیے ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے وادی راجگال میں آپریشن کا آغاز کیا تھا، اس علاقے میں بلند پہاڑوں کے علاوہ درے بھی ہیں جہاں نا صرف عسکریت پسندوں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں بلکہ اس علاقے کو دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔

پاکستان فوج کے مطابق اس علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر کے یہاں اضافی دستے تعینات کیے جائیں گے تاکہ دہشت گرد اس علاقے کو سرحد آر پار آمد و رفت کے لیے استعمال نا کر سکیں۔

خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں اس سے قبل بھی پاکستان فوج کارروائی کرتی رہی ہے۔

دریں اثنا ملک بھر میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جاری ’’کومبنگ آپریشن‘‘ میں تیزی آئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار اور اُن کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو کے علاقے ٹل سے دہشت گردوں کے چھ معاونین کو گرفتار کیا گیا۔

اس سے قبل فوج کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ اتوار کو بھی ٹل سے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور اُن کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں جگلوٹ کے مقام پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں اسلحہ منتقل کرنے والے دو مشتبہ دہشت گردوں کو بھی اتوار کو گرفتار کیا گیا۔

فوج کے مطابق گرفتار کیے گئے شدت پسندوں سے رائفلز، کلاشنکوف، پستول، ڈیٹونیٹرز اور بڑی تعداد میں گولیاں برآمد کی گئیں۔

اُدھر پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے 55 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 15 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رواں ماہ ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کے بعد پاکستانی فوج کی طرف سے ملک بھر میں دہشت گردوں اور اُن کے معاونین کی تلاش کے لیے ’کومبنگ آپریشن‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG