رسائی کے لنکس

پاکستان میں داعش موجود نہیں: چوہدری نثار


وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار

ہفتہ کو راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب میں اُن کہنا تھا کہ وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش شام اور عراق میں سرگرم تنظیم ہے اور اُس کا یہاں کوئی وجود نہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک بار پھر ملک میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض شدت پسند تنظیمیں اس گروہ کا نام استعمال کر رہی ہیں۔

ہفتہ کو راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب میں اُن کہنا تھا کہ وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش شام اور عراق میں سرگرم تنظیم ہے اور اُس کا یہاں کوئی وجود نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جو بچوں، خواتین اور بے گناہوں پر حملے کرتے ہیں وہ اسلام کی روح کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’غیر متنازع چیزوں کو بھی متنازع بنایا جاتا ہے، جس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جگہ جگہ داعش داعش (کا نام لیا جاتا ہے) میں بار ہا کہہ چکا ہوں یہ مشرق وسطیٰ کی تنظیم ہے۔‘‘

پاکستان میں ’داعش‘ کی موجودگی کا معاملہ متنازع ہونے کے علاوہ ابہام کا باعث بن رہا ہے۔

رواں ہفتے ہی انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کو بتایا تھا کہ لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسی تنظیمیں داعش کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں اور یہ گروہ پاکستان کے لیے اُبھرتا ہوا خطرہ ہے۔

اس سے قبل صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ پاکستان سے لگ بھگ 100 افراد نے داعش میں شمولیت کے لیے عراق اور شام کا سفر کیا جب کہ صوبہ پنجاب میں اس گروہ سے وابستگی پر 40 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں پر حملوں کے بعد حملہ آوروں کی طرف سے پھینکے گئے تحریری پرچوں میں بھی حملوں کی ذمہ داری داعش کی طرف سے قبول کیے جانے کے دعوے کیے جاتے رہے۔

جب کہ ملک کے کئی حصوں میں دیواروں پر بھی ’داعش‘ کے حق میں تحریریں لکھے جانے کے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اُن کے بقول پاکستان کو ملک میں ’داعش‘ کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے انسداد کے لیے کام شروع کرنا چاہیئے۔

واضح رہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں داعش کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس گروہ کے خلاف امریکی فورسز نے بھی افغانستان میں کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG