رسائی کے لنکس

شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق 'غلط معلومات' دینے کی تحقیقات


چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

وزیرداخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ آئی جی پولیس بلوچستان نے انھیں "یہ خبر کیوں دی کہ سلمان تاثیر ایک آپریشن کے ذریعے بازیاب ہوئے جب کہ اصل واقعات اس کے برعکس ہیں۔۔۔‘‘

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے کی بازیابی سے متعلق "غلط معلومات" فراہم کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

شہباز تاثیر اپنے اغوا کے ساڑھے چار سال بعد منگل کو بلوچستان کے علاقے کچلاک سے بازیاب ہوئے تھے۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ آئی جی پولیس بلوچستان نے انھیں "یہ خبر کیوں دی کہ شہباز تاثیر ایک آپریشن کے ذریعے بازیاب ہوئے جب کہ اصل واقعات اس کے برعکس ہیں۔۔۔ ہمیں قوم کے سامنے سچ بولنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔"

شہباز تاثیر کی بازیابی کے بعد بلوچستان پولیس حکام کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس نے کوئٹہ سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر کچلاک کے علاقے میں ایک احاطے پر چھاپہ مارا، جہاں اُنھیں صرف ایک شخص ملا، جس نے اپنا نام شہباز تاثیر بتایا۔

جب کہ ’ایف سی‘ بلوچستان کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان کہا گیا تھا کہ ایف سی کو ایک سرچ آپریشن میں شہباز تاثیر ملا۔

لیکن ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی کہ شہباز تاثیر تنہا کچلاک ایک ہوٹل پہنچا۔ السلیم نامی اس ہوٹل کے مالک سے منسوب بیان کے مطابق شہباز تاثیر نے کھانا کھانے کے بعد بل ادا کیا اور پھر فون کر کے لاہور اپنے اہل خانہ سے بات کی جس کے بعد سکیورٹی اداروں کے اہلکار وہاں پہچنے اور شہباز کو اپنے ہمراہ لے آئے۔

شہباز تاثیر کی بازیابی کے حوالے سے سامنے آنے والی ان متضاد اطلاعات کے بعد وزیر داخلہ نے اسپیشل سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو سارے معاملے کی تحقیقات کر کے دو روز میں انھیں رپورٹ پیش کرے گی۔

ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ شہباز کی رہائی کے لیے تقریباً ایک ارب روپیہ تاوان ادا کیا گیا۔ لیکن اس بارے میں نہ تو سرکاری طور پر اور نہ ہی تاثیر خاندان کی طرف سے کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

شہباز تاثیر اگرچہ لاہور اپنے گھر میں پہنچ چکے ہیں لیکن اُنھوں نے تاحال اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ وہ کیسے بلوچستان پہنچے اور اُن کی رہائی کس طرح عمل آئی۔

شہباز تاثیر کو اگست 2011ء میں لاہور سے نامعلوم افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ گھر سے دفتر جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG