رسائی کے لنکس

وزیر داخلہ کی کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کے بارے میں سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ قانونی طور پر تو شاید اس کی ممانت نہیں لیکن اُن کے بقول اس سے درست تاثر بیرونی دنیا میں نہیں جاتا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار سے جمعہ کو ’دفاع پاکستان کونسل‘ نامی اتحاد کے ایک وفد نے مولانا سمیع الحق کی قیادت میں ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات میں کالعدم مذہبی تنظیم اہل سنت و الجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ

ماضی کی حکومت میں مولانا احمد لدھیانوی کے اسلام آباد میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

ملاقات کے بعد جاری بیان کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ تمام صوبوں سے شیڈول فور کی فہرستوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا کہا جائے گا‘ اور دینی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

شیڈول فور کیا ہوتا ہے اس میں کونسی شخصیات کو شامل کیا جاتا ہے، اس بارے میں سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’2002 سے ایک نئی اختراع ہے کہ جو انتہا پسندی اور شدت پسندی یا اس قسم کی (سرگرمیوں) میں ملوث ہیں اُن لوگوں کے نام اس فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔۔ تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ دقت نہ ہو کہ کن پر نظر رکھنی ہے اور کسی پر نہیں رکھنی ہے۔‘‘

وزیر داخلہ نے دفاع پاکستان کونسل کے وفد سے ملاقات کے بعد کہا کہ شیڈول فور میں شامل تمام شخصیات پاکستانی ہیں انہیں شناختی کارڈ اور شہریت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھی کہ فورتھ شیڈول میں شامل سینکڑوں افراد کے شناختی کارڈز بند کر دیئے گئے ہیں۔

تاہم وزیر داخلہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ اس قسم کے فیصلوں سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے اس عمل کو درست کیا جائے۔

وزیر داخلہ کی کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کے بارے میں سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ قانونی طور پر تو شاید اس کی ممانت نہیں لیکن اُن کے بقول اس سے درست تاثر بیرونی دنیا میں نہیں جاتا۔

’’مسئلہ صرف تاثر ہے کہ اگر آپ نے کسی پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا تو اس کے ساتھ برتاؤ مختلف ہونا چاہیے۔۔۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو اس تنظیم پر پابندی ہی عائد نہیں کرنی چاہیئے۔‘‘

دفاع پاکستان کونسل کے وفد سے وزیر داخلہ کی ملاقات ایسے وقت ہوئی حکومت میں شامل وزرا کی طرف سے الزام لگایا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے دو نومبر کو اسلام آباد میں اپنے احتجاج کے لیے مذہبی جماعتوں سے رابطہ کیا ہے کہ وہ اپنے کارکن اُنھیں فراہم کریں۔

تاہم تحریک انصاف کی طرف سے اس کی سختی سے مذمت کی گئی۔

سابق سیکرٹری داخلہ اور تجزیہ کار تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ اس طرح کے الزام کی نوعیت سیاسی ہے اور ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ تحریک انصاف کے احتجاج میں مذہبی جماعتوں کے لوگ حصہ بنے ہوں۔

XS
SM
MD
LG