رسائی کے لنکس

نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندانوں کو انتظامیہ سے فوری رابطے کی ہدایت

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے نے چار قبائلی ایجنسیوں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو آخری موقع فراہم کرتے ہوئے، اعلان کیا کہ اپنے گھروں کو واپسی کے لیے یہ افراد حکام سے رابطہ کریں بصورت دیگر انھیں واپسی کے لیے دی جانے والی مالی اعانت فراہم نہیں کی جائے گی اور ان کا نام بھی بے گھر افراد کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔

شدت پسندوں خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث حالیہ برسوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شمالی و جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر ایجنسی سے نقل مکانی کی تھی اور ان علاقوں میں امن و امان بحال ہونے کے بعد ان قبائلیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہے۔

لیکن اب بھی بہت سے قبائلی خاندان بنوں کے قریب قائم کیمپ اور خیبر پختونخواہ کے دیگر علاقوں میں مقیم ہیں۔

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے (ایف ڈی ایم اے) نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے ایسے لوگوں کو مطلع کیا کہ اگر 15 اپریل تک وہ متعلقہ پولیٹیکل انتظامیہ کے مراکز یا پشاور میں ایف ڈی ایم اے کے دفتر سے رابطہ نہیں کرتے تو انھیں واپسی کے لیے کرائے کی مد میں دس ہزار اور دیگر اشیائے ضروری کے لیے 25 ہزار روپے کی امدادی رقم نہیں دی جائے گی۔

مزید برآں ان کا نام بطور بے گھر افراد کی فہرست سے بھی خارج کر دیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی راہنما پیر عاقل شاہ نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں ان کے لیے رہائش کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے تاحال یہ لوگ واپس جانے سے گریزاں ہیں۔

"حکومت بار بار کہتی ہے کہ آپ جائیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں جائیں تو کہاں جائیں، وہاں گھر سب مسمار پڑے ہیں۔ تو اس وجہ سے کچھ لوگ ڈانڈے درپہ خیل، دتہ خیل اور میران شاہ کے قریب جو گاؤں ہیں ان کے لیے ابھی انتظامات نہیں ہیں نہ ہی کوئی متبادل جگہ ہے۔"

حال ہی جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ فخرالاسلام نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اعتراف کیا تھا کہ ابھی بہت سے علاقوں میں مکانات کی تعمیر نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے واپس جانے والے لوگ وہاں ان کی تعمیر کے لیے ایک دو ساتھیوں کو چھوڑ کر دوبارہ دیگر علاقوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ گھروں کی تعمیر مکمل ہونے پر واپس لوٹ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG