رسائی کے لنکس

پی آئی اے کا 21 مسافر جہاز ’لیز‘ پر لینے کا فیصلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشہود تاج کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ان جہازوں کی وجہ سے ان فضائی روٹس پر پروازیں دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی جن پر حالیہ برسوں میں مسافر طیاروں کی کمی کے باعث پروازیں بند کر دی گئی تھیں۔

پاکستان میں حکومت نے قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ کے خسارے پر قابو پانے کے لیے 21 مسافر جہاز لیز پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عہدیداروں کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ پہلے مرحلے میں پی آئی اے کے خسارے کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور پھر ایسی حکمت عملی متعارف کروائی جائے تاکہ یہ قومی ادارہ نفع کما سکے۔

پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ نئے جہازوں کے حصول کے لیے قانون کے مطابق ضروری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

’’ہم نے کل 21 جہاز ڈرائی لیز پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اخبارات میں ٹینڈر جاری کر دیے ہیں اور اس میں دو جہاز جولائی میں پی آئی اے کو حاصل ہو جائیں گے اور تیسرا (جہاز) ستمبر یا اکتوبر میں مل جائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ باقی 18 جہاز اس سال کے آخر میں یا اگلے سال کے شروع میں مل جائیں۔‘‘

مشہود تاج کا کہنا تھا کہ پی آئی کو ان جہازوں کی وجہ سے ان فضائی روٹس پر پروازیں دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی جن پر حالیہ برسوں میں مسافر طیاروں کی کمی کے باعث پروازیں بند کر دی گئی تھیں۔

’’جیسا کہ ایمسٹردیم، فرینکفرٹ، ہانگ کانگ یا اور روٹس ہیں تو ان کو دوبارہ بحال کریں گے اور ہم نئے روٹس بھی کھولیں گے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پی آئی اے کی کوشش ہے کہ اُن ممالک میں کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھائی جائے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں۔

’’جو منافع بخش روٹس تھے ان پر جہازوں کی کمی کی وجہ سے ہماری پروازیں کم ہوئی تھی تو ان ملکوں کے لیے پروازوں کی تعداد کو دوبارہ بحال کیا جائے گا اور اس میں مزید اضافہ بھی کریں، جس میں دبئی، ابوظہبی اور کویت کے لیے پروازیں شامل ہیں اس طرح ہم برطانیہ اور کینیڈا اور امریکہ کے لیے بھی اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔‘‘

ترجمان مشہود تاجور نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پی آئی اے کو ماہانہ ڈیڑھ ارب روپے تک کے خسارے کا سامنا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اگر نئے جہاز طے شدہ وقت کے مطابق قومی فضائی کمپنی کے بیڑے میں شامل ہو گئے تو رواں سال کے آخر تک اس ادارے کے اخراجات اور آمدن میں فرق ختم ہو جائے گا۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی حالیہ مہینوں میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے خسارے کو کم کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔

جب کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے سمیت بعض دیگر حلقوں کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستانی حکومت خسارے کے شکار قومی اداروں کی شفاف نجکاری کر کے قومی خزانے پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG