رسائی کے لنکس

عورتوں کو مساوی حقوق دیے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں، وزیر اعظم


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

خوراک سے روزگار تک اور صحت سے تعلیم تک کسی بھی قوم کا حال جاننے کے لیے اس کی خواتین کا حال جاننا ضروری ہے, فہمیدہ مرزا

کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی میں خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اسی کردار کو اجاگر کرنے اور خواتین کو سماجی و معاشی ترقی میں جائز مقام دلانے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ پالیسی سازی میں خواتین کے حقوق کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔

انھوں نے سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں، عالمی ترقیاتی انجمنوں اور میڈیا سے اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ پارلیمان کے ایوان زیریں میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی نے خواتین کے تحفظ کے لیے ریکارڈ قانون سازی کی اور اس اسمبلی میں ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ خواتین ارکان موجود ہیں۔

فہمیدہ مرزا نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیوں میں سب سے زیادہ سربراہی خواتین نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک سے روزگار تک اور صحت سے تعلیم تک کسی بھی قوم کا حال جاننے کے لیے اس کی خواتین کا حال جاننا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آبادی کا 52 فیصد خواتین پر مشتمل ہے اور پاکستان کی ترقی میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیئے۔

’’دیہاتی علاقے میں جہاں پاکستان کی اکثریت آباد ہے وہاں کی عورت بہت محکوم ہے اور مظلوم ہے لیکن وہ پاکستان کی پیداوار میں بہت بڑا کردار ادا کررہی ہے۔‘‘

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں کم سن پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی جو کہ اب ایک بین الاقوامی آواز بن چکی ہیں اور امن کے نوبل انعام کے لیے تاریخ کی کم عمر ترین امیدوار ہیں، نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنا پیغام ریکارڈ کرایا جو کہ ذرائع ابلاغ پر نشر کیا گیا۔

ملالہ نے کہا کہ ’’لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے سب کو متحد ہو کر لڑنا ہو گا اور اس کام کے لیے کسی کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے کہ کوئی اور ہمارے لیے یہ آواز اٹھائے گا۔‘‘

حقوق نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کو حقوق دلانے کے حق میں نمایاں قانون سازی ہوئی لیکن ان پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کے عہدیداروں کو تربیت فراہم کرنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ قانون سازی کے ثمرات سے خواتین مستفید ہو سکیں۔
XS
SM
MD
LG