رسائی کے لنکس

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی اٹھائے جانے اور ملک میں انٹرینٹ پر صارفین کی تعداد میں اضافے کے باوجود صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی سے متعلق حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے، جہاں یہ آزادی سب سے کم یا محدود ہے۔

’’فریڈم آن دی نیٹ‘‘ نامی رپورٹ ہر سال واشنگنٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک ’’فریڈم ہاؤس‘‘ کی طرف سے جاری کی جاتی ہے۔

رواں سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ دیگر جن ممالک میں انٹرنیٹ کے استعمال پر قدغن عائد ہیں اُن میں چین، ایران، شام، سعودی عرب، ایتھوپیا، ویت نام، کیوبا، ازبکستان اور بحرین شامل ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے اسے ایک تشویشناک صورت حال قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی اٹھائے جانے اور ملک میں انٹرینٹ پر صارفین کی تعداد میں اضافے کے باوجود صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے،

کیونکہ ملک میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے سائبر کرائم بل کی وجہ سے انٹرنیٹ کی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کے عہدیدار فرحان حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی کی صورت حال میں کوئی قابل ذکر بہتری نہیں آئی ہے۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ فریڈم (آزادی) کے جو حالات ہیں، وہ بہت خراب ہیں پچھلے پانچ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک منفی رجحان جاری ہے ۔۔۔ اب خطرہ اس وجہ سے زیادہ بڑھتا جا رہا ہے کہ قانون کی ذریعے ان چیزوں کو لاگو کیا جارہا ہے جن کو پہلے چیلنج کرنا زیادہ آسان تھا۔‘‘

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے جب کہ حکام کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی میں بھی حالیہ برسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے رواں سال اگست میں کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے سائبر کرائم قانون منظور کیا تھا۔

تاہم حزب مخالف کی بعض سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق اور انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی تنظمیوں کی طرف سے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس سے انٹرنیٹ صارفین کی آزادی محدود ہو جائے گی۔

حکومتی عہدیدار ان تحفظات کو بلاجواز قرارد یتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ دور حاضر کے تقاضوں کے تحت انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے یہ قانون ضروری ہے۔

پاکستان میں حالیہ سالوں میں انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تاہم فریڈم ہاؤس کے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب بھی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بسنے والوں کی اس سہولت تک رسائی آسان نہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG