رسائی کے لنکس

سمگلنگ کی روک تھام کے لئے پاک ایران فوج کا مشترکہ گشت

  • نصیر کاکڑ

سمگلنگ کی روک تھام کے لئے پاک ایران فوج کا مشترکہ گشت

سمگلنگ کی روک تھام کے لئے پاک ایران فوج کا مشترکہ گشت


چاغی میں فرنٹیئر کور کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بتایا ہے کہ پاکستان اور ایران کی سرحدی فورسز نے اپنی سرحدوں پر مشترکہ گشت شروع کر دیا ہے، جِس کا مقصد منشیات اور انسانی سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنا اور سرحد کے دونوں جانب مشکوک افراد اور مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر درانی کا کہنا ہے کہ مشترکہ گشت کا فیصلہ ایک ماہ قبل ایران کے سرحدی شہر زاہدان میں ہونے والے ایک اجلاس میں ہوا تھا جِس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔

اُن کے مطابق مشترکہ گشت کے لیے دونوں سکیورٹی فورسز کو جدید آلات سے لیس کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بر وقت اقدامات کیے جاسکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر رابطے کے لیے ہاٹ لائن کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان ہر سال آٹھ سے دس ہزار افراد ایران کے راستے غیر قانونی طور پر عرب اور یورپی ممالک کو جانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کا ایک بڑا حصہ بھی بلوچستان کے راستے ایران کو سمگل کیا جاتا ہے۔

پاکستانی حکام کے بقول سرحد پر مشترکہ گشت سے سمگلنگ کی روک تھام میں کافی مدد ملے گی۔

ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدیں گذشتہ سال 18اکتوبر کو صوبہ سیستان میں ایک خودکش دھماکے کے بعد سے بند کر رکھی ہیں۔ اُس واقعے میں تین اعلیٰ فوجی کمانڈروں سمیت 40سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ تہران کے ساتھ سرحدیں دوبارہ کھولنے کے لیے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG