رسائی کے لنکس

ایران کے ساتھ سرحد کی نگرانی کو موثر بنایا گیا ہے: حکام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز جرائم پیشہ عناصر کا پیچھا کرتی ہیں ان کے خلاف کارروائیاں بھی کرتی ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سرحد پر کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلوں کے واقعات سے حالات میں تناؤ رہا جس میں اعلیٰ سطحی رابطوں سے خاصی حد تک کمی آئی ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر نگرانی کے لیے موثر اقدامات کیے گیے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد ہے جو پہاڑی سلسلے اور چٹیل میدانوں پر مشتمل ہے۔ دونوں ملکوں میں آنے جانے کے لیے یہاں چار پوائنٹس ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک یعنی تفتان پر ہی باقاعدہ قانونی طریقے سے لوگوں کی آمدو رفت ہوتی ہے۔

منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر عموماً غیر قانونی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہیں اور اکثر یہاں ان کی ایرانی یا پاکستانی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔

اکبر حسین درانی نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز جرائم پیشہ عناصر کا پیچھا کرتی ہیں ان کے خلاف کارروائیاں بھی کرتی ہیں ان کے بقول ایسا نہیں ہوتا کہ یہ ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہو جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد صوبائی حکومت نے سرحد پر اپنی جانب نگرانی کے موثر انتظامات کرنے کے لیے ایرانی عہدیداروں سے روابط کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

" اُن کی بارڈر سکیورٹی فورسز ہیں، ہمارے یہاں پر ایف سی ہے تو اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں جس کو باقاعدہ طور پر جوائنٹ بارڈر کمیشن میٹنگ میں طے کیا جاتا ہے۔ اُس کے بعد جو ڈسٹرکٹ یا بارڈر کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔۔۔ اُس کے ذریعے بھی (معاملات) کو طے کیا جاتا ہے تو یہ چھوٹے موٹے مسائل پیدا ہوتے ہیں اُس میں ہم باقاعدہ طور پر وزارت خارجہ کو بھی اپ ڈیٹ رکھتے ہیں اور دفتر خارجہ کو بھی بتاتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر کارروائیاں کرنے کی بات میں بہت زیادہ صداقت نہیں۔

"ایران کی سرحدی فورسز کی بلوچستان میں داخل ہونے اور یہاں آ کر مارنے کی بات شاید دُرست نہ ہو، انہوں نے فائر کیا تھا اور فائر سے ہمارے ایک صوبیدار شہید اور تین جوان زخمی ہوئے تھے (اس قسم کے واقعے پر) پاکستان نے باقاعدہ دفتر خارجہ سے احتجاج ریکارڈ کروایا اور سفارتی سطح پر بھی ہم نے کیا اور جو بارڈر کی سطح تھی اُس پر بھی ہم نے کیا ہے ظاہر ہے اُس کا اُس پر نوٹس لے لیا گیا ہے۔"

ایران کے نائب وزیرخارجہ عبدالرضا رحمانی فضلی کی طرف سے کچھ عرصہ قبل یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اگر پاکستان ان کی سرحدی فورسز پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا تو ایرانی فورسز پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر خود کارروائی کریں گی۔

لیکن اس کے بعد دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے اعلیٰ عہدیداروں کی تہران میں ہونے والی ملاقات میں سرحد کی موثر نگرانی اور یہاں نقل و حرکت پر نظر رکھنے سے متعلق مشترکہ کاوشوں پر اتفاق کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG