رسائی کے لنکس

پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام ہوگا، لیکن چند مشکالات بھی ہیں: وزیر پٹرولیم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شاہد خاقان عباسی نے ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے مکمل ہونے کی مدت کو ’’تھوڑا جارحانہ‘‘ قرار دیا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مالی معاملات طے ہونے پر تعمیر کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی نو منتخب حکومت پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام جاری رکھے گی اور متعین کردہ مدت میں اسے مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ہمسایہ ملک ایران سے گیس درآمد کے منصوبے سے متعلق مقامی ذرائع ابلاغ میں ہونے والی ’’قیاس آرائیوں‘‘ کو مسترد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس منصوبے پر کام کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

’’بیانات اور پالیسی کی ضرورت نہیں۔ دو ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس پر علمدرآمد کروانا ہے۔۔۔ایسا نہیں کہ آپ ایک پر کام کریں گے تو دوسرا ختم ہو جائے گا۔ آپ نے مائع گیس درآمد، افغان،ترکمنستان گیس پائپ لائن، اپنے گیس وسائل اور دیگر منصوبوں کو دیکھنا ہوگا۔ ان سب پر کام کرنا ہوگا۔‘‘

توانائی کا بحران پاکستان میں سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اور بیمار ملکی معیشت کی بحالی کے لئے اس پر قابو پانا میاں نواز شریف کی نو منتخب حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق ان کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے مکمل ہونے کی مدت کو ’’تھوڑا جارحانہ‘‘ قرار دیا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مالی معاملات طے ہونے پر تعمیر کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

’’ہم اس منصوبے پر کام کریں گے۔ ہمیں تو گیس کی ضرورت ہے۔ دو ریاستوں کے درمیان معاہدہ موجود ہے جسے مکمل نا کرنے کی صورت میں شقیں موجود ہیں۔‘‘

رواں سال مارچ میں پاکستان اور ایران کے صدور نے طویل عرصے سے تعطل کے شکار اس گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا۔

معاہدے کے تحت آئندہ سال کے اواخر تک منصوبہ مکمل اور گیس کی ترسیل شروع ہو جانی ہے جبکہ تاخیر کی صورت میں ذمہ دار حکومت کو تقریباً 20 کروڑ ڈالر ماہانہ ادا کرنا ہوں گے۔ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس سے حکام کے مطابق 4 ہزار میگا واٹ بجلی تیار ہوسکے گی۔

تاہم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا منصوبے میں پیش رفت کے لئے چند بنیادی مشکلات کا حل ناگزیر ہے۔

’’معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔ گیس کی قیمت بلکہ ادائیگی کے طریقہ کار کو بھی طے کرنا ہے اور پھر اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ بین الاقوامی پابندیاں کس حد تک اسے متاثر کر سکتی ہیں۔ ان سب کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دو ریاستوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ پاکستان کو اسے نبھانے کی ضرورت ہے مگر یہ مسائل بھی ہیں۔‘‘

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے پیش نظر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی عہدیدار اسلام آباد کو تنبہہ کر چکے ہیں یہ منصوبہ ایران پر واشگٹن کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی زد میں آسکتا ہے۔ ان تحفظات کے باوجود پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے گیس درآمد کے اس منصوبے پر عمل ان کے بقول ملکی مفاد کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG